تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Tazkir ul Quran: سورة الأنعام، الآية 12

١٢:٦
قل لمن ما في السماوات والارض قل لله كتب على نفسه الرحمة ليجمعنكم الى يوم القيامة لا ريب فيه الذين خسروا انفسهم فهم لا يومنون ١٢
قُل لِّمَن مَّا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ قُل لِّلَّهِ ۚ كَتَبَ عَلَىٰ نَفْسِهِ ٱلرَّحْمَةَ ۚ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَـٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ ۚ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ١٢
قُلﱤ
لِّمَنﱥ
مَّاﱦ
فِيﱧ
ٱلسَّمَٰوَٰتِﱨ
وَٱلۡأَرۡضِۖﱩﱪ
قُلﱫ
لِّلَّهِۚﱬﱭ
كَتَبَﱮ
عَلَىٰﱯ
نَفۡسِهِﱰ
ٱلرَّحۡمَةَۚﱱﱲ
لَيَجۡمَعَنَّكُمۡﱳ
إِلَىٰﱴ
يَوۡمِﱵ
ٱلۡقِيَٰمَةِﱶ
لَاﱷ
رَيۡبَﱸ
فِيهِۚﱹﱺ
ٱلَّذِينَﱻ
خَسِرُوٓاْﱼ
أَنفُسَهُمۡﱽ
فَهُمۡﱾ
لَاﱿ
يُؤۡمِنُونَﲀ
١٢ﲁ
قل -أيها الرسول- لهؤلاء المشركين: لمن مُلكُ السموات والأرض وما فيهن؟ قل: هو لله كما تقرون بذلك وتعلمونه، فاعبدوه وحده. كتب الله على نفسه الرحمة فلا يعجل على عباده بالعقوبة. ليجمعنكم إلى يوم القيامة الذي لا شك فيه للحساب والجزاء. الذين أشركوا بالله أهلكوا أنفسهم، فهم لا يوحدون الله، ولا يصدقون بوعده ووعيده، ولا يقرون بنبوة محمد صلى الله عليه وسلم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

کچھ لوگ کھلے طور پر آخرت کا انکار کرتے ہیں۔ کچھ لوگ وہ ہیں جو زبان سے آخرت کا انکار نہیں کرتے مگر ان کے دل میں ساری اہمیت بس اسی دنیا کی ہوتی ہے۔ چنانچہ ان کی زندگی میں اور کھلے ہوئے منکرین کی زندگی میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ یہ دونوں گروہ باعتبار حقیقت ایک ہیں۔ اور دونوں ہی اللہ کے نزدیک آخرت کو جھٹلانے والے ہیں۔ ایک گروہ اگر زبانی طور پر اس کو جھٹلا رہا ہے تو دوسرا گروہ عملی طور پر۔

ایسے تمام لوگ خدا کے قانون کے مطابق ہلاکت میں پڑنے والے ہیں۔ پیغمبروں کے زمانہ میں یہ ہلاکت موجودہ دنیا میں سامنے آگئی اور بعد کے لوگوں کے لیے وہ آخرت میں سامنے آئے گی۔