تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: العلق ١٣:٩٦

١٣:٩٦
ارايت ان كذب وتولى ١٣
أَرَءَيْتَ إِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰٓ ١٣
أَرَءَيۡتَ
إِن
كَذَّبَ
وَتَوَلَّىٰٓ
١٣
أرأيت إن كذَّب هذا الناهي بما يُدعى إليه، وأعرض عنه، ألم يعلم بأن الله يرى كل ما يفعل؟ ليس الأمر كما يزعم أبو جهل، لئن لم يرجع هذا عن شقاقه وأذاه لنأخذنَّ بمقدَّم رأسه أخذًا عنيفًا، ويُطرح في النار، ناصيته ناصية كاذبة في مقالها، خاطئة في أفعالها، فكأن الكذب والخطأ باديان منها. فليُحْضِر هذا الطاغية أهل ناديه الذين يستنصر بهم، سندعو ملائكة العذاب. ليس الأمر على ما يظن أبو جهل، إنه لن ينالك -أيها الرسول- بسوء، فلا تطعه فيما دعاك إليه مِن تَرْك الصلاة، واسجد لربك واقترب منه بالتحبب إليه بطاعته.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 96:13إلى 96:19
باب

پھر فرمایا کہ ” اے نبی! تم اس مردود کی بات نہ ماننا، عبادت پر مداومت کرنا اور بکثرت عبادت کرتے رہنا اور جہاں جی چاہے نماز پڑھتے رہنا اور اس کی مطلق پرواہ نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ خود تیرا حافظ و ناصر ہے۔ وہ تجھے دشمنوں سے محفوظ رکھے گا، تو سجدے میں اور قرب اللہ کی طلب میں مشغول رہ “۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے بہت ہی قریب ہوتا ہے پس تم بکثرت سجدوں میں دعائیں کرتے رہو“ ۔ [صحیح مسلم:482] ‏

پہلے یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الانشقاق میں اور اس سورت میں سجدہ کیا کرتے تھے ۔ [صحیح مسلم:578] ‏

اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقراء کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ کا شکر و احسان ہے۔

10743