تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الأحزاب ١٩:٣٣

١٩:٣٣
اشحة عليكم فاذا جاء الخوف رايتهم ينظرون اليك تدور اعينهم كالذي يغشى عليه من الموت فاذا ذهب الخوف سلقوكم بالسنة حداد اشحة على الخير اولايك لم يومنوا فاحبط الله اعمالهم وكان ذالك على الله يسيرا ١٩
أَشِحَّةً عَلَيْكُمْ ۖ فَإِذَا جَآءَ ٱلْخَوْفُ رَأَيْتَهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ تَدُورُ أَعْيُنُهُمْ كَٱلَّذِى يُغْشَىٰ عَلَيْهِ مِنَ ٱلْمَوْتِ ۖ فَإِذَا ذَهَبَ ٱلْخَوْفُ سَلَقُوكُم بِأَلْسِنَةٍ حِدَادٍ أَشِحَّةً عَلَى ٱلْخَيْرِ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ لَمْ يُؤْمِنُوا۟ فَأَحْبَطَ ٱللَّهُ أَعْمَـٰلَهُمْ ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرًۭا ١٩
أَشِحَّةً
عَلَيۡكُمۡۖ
فَإِذَا
جَآءَ
ٱلۡخَوۡفُ
رَأَيۡتَهُمۡ
يَنظُرُونَ
إِلَيۡكَ
تَدُورُ
أَعۡيُنُهُمۡ
كَٱلَّذِي
يُغۡشَىٰ
عَلَيۡهِ
مِنَ
ٱلۡمَوۡتِۖ
فَإِذَا
ذَهَبَ
ٱلۡخَوۡفُ
سَلَقُوكُم
بِأَلۡسِنَةٍ
حِدَادٍ
أَشِحَّةً
عَلَى
ٱلۡخَيۡرِۚ
أُوْلَٰٓئِكَ
لَمۡ
يُؤۡمِنُواْ
فَأَحۡبَطَ
ٱللَّهُ
أَعۡمَٰلَهُمۡۚ
وَكَانَ
ذَٰلِكَ
عَلَى
ٱللَّهِ
يَسِيرٗا
١٩
بُخَلاء عليكم -أيها المؤمنون- بالمال والنفس والجهد والمودة لما في نفوسهم من العداوة والحقد؛ حبًا في الحياة وكراهة للموت، فإذا حضر القتال خافوا الهلاك ورأيتهم ينظرون إليك، تدور أعينهم لذهاب عقولهم؛ خوفًا من القتل وفرارًا منه كدوران عين مَن حضره الموت، فإذا انتهت الحرب وذهب الرعب رموكم بألسنة حداد مؤذية، وتراهم عند قسمة الغنائم بخلاء وحسدة، أولئك لم يؤمنوا بقلوبهم، فأذهب الله ثواب أعمالهم، وكان ذلك على الله يسيرًا.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 33:18إلى 33:19
جہاد سے منہ موڑنے والے ایمان سے خالی لوگ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے محیط علم سے انہیں خوب جانتا ہے جو دوسروں کو بھی جہاد سے روکتے ہیں۔ اپنے ہم صحبتوں سے یار دوستوں سے کنبے قبیلے والوں سے کہتے ہیں کہ آؤ تم بھی ہمارے ساتھ رہو اپنے گھروں کو اپنے آرام کو اپنی زمین کو اپنے بیوی بچوں کو نہ چھوڑو۔ خود بھی جہاد میں آتے نہیں یہ اور بات ہے کہ کسی کسی وقت منہ دکھاجائیں اور نام لکھوا جائیں۔ یہ بڑے بخیل ہیں نہ ان سے تمہیں کوئی مدد پہنچے نہ ان کے دل میں تمہاری ہمدردی نہ مال غنیمت میں تمہارے حصے پر یہ خوش۔

خوف کے وقت تو ان نامردوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑجاتے ہیں۔ آنکھیں چھاچھ پانی ہو جاتی ہے مایوسانہ نگاہوں سے تکتے لگتے ہیں۔ لیکن خوف دور ہوا کہ انہوں نے لمبی لمبی زبانیں نکال ڈالیں اور بڑھے چڑھے دعوے کرنے لگے اور شجاعت و مردمی کا دم بھرنے لگے۔ اور مال غنیمت پر بے طرح گرنے لگے۔ ہمیں دو ہمیں دو کا غل مچا دیتے ہیں۔ ہم آپ کے ساتھی ہیں۔ ہم نے جنگی خدمات انجام دی ہیں ہمارا حصہ ہے۔ اور جنگ کے وقت صورتیں بھی نہیں دکھاتے بھاگتوں کے آگے اور لڑتوں کے پیچھے رہاکرتے ہیں دونوں عیب جس میں جمع ہوں اس جیسا بے خیر انسان اور کون ہو گا؟ امن کے وقت عیاری بد خلقی بد زبانی اور لڑائی کے وقت نامردی روباہ بازی اور زنانہ پن۔ لڑائی کے وقت حائضہ عورتوں کی طرح الگ اور یکسو اور مال لینے کے وقت گدھوں کی طرح ڈھینچو ڈھینچو۔ اللہ فرماتا ہے بات یہ ہے کہ ” ان کے دل شروع سے ہی ایمان سے خالی ہیں۔ اس لیے ان کے اعمال بھی اکارت ہیں۔ اللہ پر یہ آسان ہے “۔

صفحہ نمبر6985