تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Bayan ul Quran التفسير: الأحقاف آية 23

٢٣:٤٦
قال انما العلم عند الله وابلغكم ما ارسلت به ولاكني اراكم قوما تجهلون ٢٣
قَالَ إِنَّمَا ٱلْعِلْمُ عِندَ ٱللَّهِ وَأُبَلِّغُكُم مَّآ أُرْسِلْتُ بِهِۦ وَلَـٰكِنِّىٓ أَرَىٰكُمْ قَوْمًۭا تَجْهَلُونَ ٢٣
قَالَﱩ
إِنَّمَاﱪ
ٱلۡعِلۡمُﱫ
عِندَﱬ
ٱللَّهِﱭ
وَأُبَلِّغُكُمﱮ
مَّآﱯ
أُرۡسِلۡتُﱰ
بِهِۦﱱ
وَلَٰكِنِّيٓﱲ
أَرَىٰكُمۡﱳ
قَوۡمٗاﱴ
تَجۡهَلُونَﱵ
٢٣ﱶ
قال هود عليه السلام: إنما العلم بوقت مجيء ما وُعدتم به من العذاب عند الله، وإنما أنا رسول الله إليكم، أبلغكم عنه ما أرسلني به، ولكني أراكم قومًا تجهلون في استعجالكم العذاب، وجرأتكم على الله.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 23 { قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰہِز } ”اس نے کہا کہ اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے“ یعنی عذاب کے بارے میں تو اللہ ہی جانتا ہے کہ اگر آئے گا تو کب آئے گا اور کس صورت میں آئے گا۔ مجھے اس بارے میں کچھ علم نہیں۔ { وَاُبَلِّغُکُمْ مَّآ اُرْسِلْتُ بِہٖ } ”اور میں تو تمہیں پہنچا رہا ہوں وہ پیغام جو اس نے مجھے دے کر بھیجا ہے“ میری ذمہ داری تو صرف اللہ کا پیغام تم لوگوں تک واضح طور پر پہنچا دینے اور اس کے مطابق تمہیں خبردار کردینے کی حد تک ہے۔ { وَلٰکِنِّیْٓ اَرٰٹکُمْ قَوْمًا تَجْہَلُوْنَ } ”لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ بالکل جہالت کی روش اختیار کر رہے ہو۔“ یہ تمہاری جہالت کی انتہا ہے کہ میری یہ باتیں سننے اور ان پر غور کرنے کے بجائے بغیر سوچے سمجھے تم ان کی نفی کرنے پر ُ تل گئے ہو۔