تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Bayan ul Quran التفسير: الأحقاف آية 17

١٧:٤٦
والذي قال لوالديه اف لكما اتعدانني ان اخرج وقد خلت القرون من قبلي وهما يستغيثان الله ويلك امن ان وعد الله حق فيقول ما هاذا الا اساطير الاولين ١٧
وَٱلَّذِى قَالَ لِوَٰلِدَيْهِ أُفٍّۢ لَّكُمَآ أَتَعِدَانِنِىٓ أَنْ أُخْرَجَ وَقَدْ خَلَتِ ٱلْقُرُونُ مِن قَبْلِى وَهُمَا يَسْتَغِيثَانِ ٱللَّهَ وَيْلَكَ ءَامِنْ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّۭ فَيَقُولُ مَا هَـٰذَآ إِلَّآ أَسَـٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ ١٧
وَٱلَّذِيﲇ
قَالَﲈ
لِوَٰلِدَيۡهِﲉ
أُفّٖﲊ
لَّكُمَآﲋ
أَتَعِدَانِنِيٓﲌ
أَنۡﲍ
أُخۡرَجَﲎ
وَقَدۡﲏ
خَلَتِﲐ
ٱلۡقُرُونُﲑ
مِنﲒ
قَبۡلِيﲓ
وَهُمَاﲔ
يَسۡتَغِيثَانِﲕ
ٱللَّهَﲖ
وَيۡلَكَﲗ
ءَامِنۡﲘ
إِنَّﲙ
وَعۡدَﲚ
ٱللَّهِﲛ
حَقّٞﲜ
فَيَقُولُﲝ
مَاﲞ
هَٰذَآﲟ
إِلَّآﲠ
أَسَٰطِيرُﲡ
ٱلۡأَوَّلِينَﲢ
١٧ﲣ
والذي قال لوالديه إذ دعواه إلى الإيمان بالله والإقرار بالبعث: قبحًا لكما أتعِدانني أن أُخْرج من قبري حيًا، وقد مضت القرون من الأمم من قبلي، فهلكوا فلم يُبعث منهم أحد؟ ووالداه يسألان الله هدايته قائلَين له: ويلك، آمن وصدِّق واعمل صالحًا، إن وعد الله بالبعث حق لا شك فيه، فيقول لهما: ما هذا الذي تقولانه إلا ما سطَّره الأولون من الأباطيل، منقول من كتبهم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 17 { وَالَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْہِ اُفٍّ لَّکُمَآ اَتَعِدٰنِنِیْٓ اَنْ اُخْرَجَ } ”اور ایک وہ شخص ہے جو اپنے والدین سے کہتا ہے کہ میں بیزار ہوں آپ دونوں سے ‘ کیا آپ مجھے اس سے ڈراتے ہیں کہ میں نکال کھڑا کیا جائوں گا زندہ کر کے قبر سے ؟“ والدین مسلمان ہیں ‘ نیک سیرت ہیں ‘ لیکن بیٹا آوارہ اور ذہنی طور پر گمراہ ہوچکا ہے۔ وہ نہ اللہ کو مانتا ہے ‘ نہ آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ وہ اپنے والدین سے توتکار کرتا ہے کہ یہ آپ مجھے کیا ہر وقت حساب کتاب کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں ! ُ تف ہے آپ لوگوں پر ! میں آپ کے ان ڈھکوسلوں کی خود ساختہ تفصیلات سن سن کر تنگ آگیا ہوں ! بس آپ لوگ مجھے مزید سمجھانا چھوڑ دیں ! میں کسی آخرت واخرت کو نہیں مانتا ! { وَقَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْج } ”حالانکہ مجھ سے پہلے کتنی ہی نسلیں گزر چکی ہیں !“ اب تک نسل در نسل کروڑوں ‘ اربوں لوگ اس دنیا میں آئے اور چلے گئے۔ ان میں سے تو آج تک کوئی اُٹھ کر نہ آیا۔ ایک وقت میں ان سب کا زندہ ہونا اور پھر ایک ایک کا حساب کتاب ہونا بالکل بعید از قیاس ہے۔ میں ایسی دقیانوسی باتوں کو ماننے والا نہیں ہوں۔ { وَہُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰہَ وَیْلَکَ اٰمِنْق اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّج } ”اور وہ دونوں اللہ کی دہائی دے کر کہتے ہیں : بربادی ہو تیری ‘ ایمان لے آ ! یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے۔“ { فَـیَقُوْلُ مَا ہٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ } ”لیکن وہ کہتا ہے : یہ کچھ نہیں مگر پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔“ یہ دوبارہ زندہ ہونے اور آخرت کی باتیں بس فرضی کہانیاں ہیں جو پچھلے زمانے سے سینہ بہ سینہ نقل ہوتی چلی آرہی ہیں۔