تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الأحقاف ١٣:٤٦

١٣:٤٦
ان الذين قالوا ربنا الله ثم استقاموا فلا خوف عليهم ولا هم يحزنون ١٣
إِنَّ ٱلَّذِينَ قَالُوا۟ رَبُّنَا ٱللَّهُ ثُمَّ ٱسْتَقَـٰمُوا۟ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ١٣
إِنَّ
ٱلَّذِينَ
قَالُواْ
رَبُّنَا
ٱللَّهُ
ثُمَّ
ٱسۡتَقَٰمُواْ
فَلَا
خَوۡفٌ
عَلَيۡهِمۡ
وَلَا
هُمۡ
يَحۡزَنُونَ
١٣
إن الذين قالوا: ربنا الله، ثم استقاموا على الإيمان به، فلا خوف عليهم من فزع يوم القيامة وأهواله، ولا هم يحزنون على ما خلَّفوا وراءهم بعد مماتهم من حظوظ الدنيا.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 46:12إلى 46:14
باب

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام پر نازل شدہ کتاب تورات امام و رحمت تھی اور یہ کتاب یعنی قرآن مجید اپنے سے پہلے کی تمام کتابوں کو منزل من اللہ اور سچی کتابیں مانتا ہے۔ یہ عربی فصیح اور بلیغ زبان میں نہایت واضح کتاب ہے۔ اس میں کفار کے لیے ڈراوا ہے اور ایمانداروں کے لیے بشارت ہے۔

اس کے بعد کی آیت کی پوری تفسیر سورۂ حم السجدہ میں گزر چکی ہے۔ ان پر خوف نہ ہو گا۔ یعنی آئندہ اور یہ غم نہ کھائیں گے یعنی چھوڑی ہوئی چیزوں کا۔ یہ ہمیشہ جنت میں رہنے والے جنتی ہیں، ان کے پاکیزہ اعمال تھے ہی ایسے کہ رحمت رحیم، کرم کریم کی بدلیاں ان پر جھوم جھوم کر موسلا دھار بارش برسائیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8446