Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Ar-Ra'd 13:26

13:26
الله يبسط الرزق لمن يشاء ويقدر وفرحوا بالحياة الدنيا وما الحياة الدنيا في الاخرة الا متاع ٢٦
ٱللَّهُ يَبْسُطُ ٱلرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقْدِرُ ۚ وَفَرِحُوا۟ بِٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَمَا ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ إِلَّا مَتَـٰعٌۭ ٢٦
ٱللَّهُ
يَبۡسُطُ
ٱلرِّزۡقَ
لِمَن
يَشَآءُ
وَيَقۡدِرُۚ
وَفَرِحُواْ
بِٱلۡحَيَوٰةِ
ٱلدُّنۡيَا
وَمَا
ٱلۡحَيَوٰةُ
ٱلدُّنۡيَا
فِي
ٱلۡأٓخِرَةِ
إِلَّا
مَتَٰعٞ
٢٦
Allah gives abundant or limited provisions to whoever He wills. And the disbelievers become prideful of ˹the pleasures of˺ this worldly life. But the life of this world, compared to the Hereafter, is nothing but a fleeting enjoyment.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
مسئلہ رزق ٭٭

اللہ جس کی روزی میں کشادگی دینا چاہے قادر ہے، جسے تنگ روزی دینا چاہے قادر ہے، یہ سب کچھ حکمت وعدل سے ہو رہا ہے۔ کافروں کو دنیا پر ہی سہارا ہوگیا۔ یہ آخرت سے غافل ہو گئے سمجھنے لگے کہ یہاں رزق کی فراوانی حقیقی اور بھلی چیز ہے حالانکہ دراصل یہ مہلت ہے اور آہستہ پکڑ کی شروع ہے لیکن انہیں کوئی تمیز نہیں۔

«قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّمَنِ اتَّقَىٰ وَلَا تُظْلَمُونَ فَتِيلًا» [4-النساء:77] ‏ ” مومنوں کو جو آخرت ملنے والی ہے اس کے مقابل تو یہ کوئی قابل ذکر چیز نہیں یہ نہایت ناپائیدار اور حقیر چیز ہے آخرت بہت بڑی اور بہتر چیز۔ لیکن عموماً لوگ دینا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں “۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کلمہ کی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا کہ اسے کوئی سمندر میں ڈبو لے اور دیکھے کہ اس میں کتنا پانی آتا ہے؟ جتنا یہ پانی سمندر کے مقابلے پر ہے اتنی ہی دنیا آخرت کے مقابلے میں ہے ۔ [صحیح مسلم:2858] ‏

ایک چھوٹے چھوٹے کانوں والی بکری کے مرے ہوئے بچے کو راستے میں پڑا ہوا دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جیسا یہ ان لوگوں کے نزدیک ہے جن کا یہ تھا اس سے بھی زیادہ بے کار اور ناچیز اللہ کے سامنے ساری دنیا ہے“ ۔ [صحیح مسلم:29570] ‏

صفحہ نمبر4153