Iniciar sesión
Iniciar sesión
Iniciar sesión
Seleccionar idioma

Tafsir: Ar-Ra’d 13:14

13:14
له دعوة الحق والذين يدعون من دونه لا يستجيبون لهم بشيء الا كباسط كفيه الى الماء ليبلغ فاه وما هو ببالغه وما دعاء الكافرين الا في ضلال ١٤
لَهُۥ دَعْوَةُ ٱلْحَقِّ ۖ وَٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَسْتَجِيبُونَ لَهُم بِشَىْءٍ إِلَّا كَبَـٰسِطِ كَفَّيْهِ إِلَى ٱلْمَآءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَـٰلِغِهِۦ ۚ وَمَا دُعَآءُ ٱلْكَـٰفِرِينَ إِلَّا فِى ضَلَـٰلٍۢ ١٤
لَهُۥ
دَعۡوَةُ
ٱلۡحَقِّۚ
وَٱلَّذِينَ
يَدۡعُونَ
مِن
دُونِهِۦ
لَا
يَسۡتَجِيبُونَ
لَهُم
بِشَيۡءٍ
إِلَّا
كَبَٰسِطِ
كَفَّيۡهِ
إِلَى
ٱلۡمَآءِ
لِيَبۡلُغَ
فَاهُ
وَمَا
هُوَ
بِبَٰلِغِهِۦۚ
وَمَا
دُعَآءُ
ٱلۡكَٰفِرِينَ
إِلَّا
فِي
ضَلَٰلٖ
١٤
Solo Él tiene el verdadero derecho a ser invocado[1], y aquellos [ídolos] que invocan en lugar de Dios no podrán responder sus súplicas. [Su ejemplo] es como quien extiende sus manos [frente a un pozo profundo de agua] creyendo que ésta vendrá a su boca, pero esto es imposible. Las súplicas [a los ídolos] de los que se niegan a creer son en vano. 1
Tafsires
Capas
Lecciones
Reflexiones.
Respuestas
Qiraat
Hadith
دعوت حق ٭٭

سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اللہ کے لیے دعوت حق ہے، اس سے مراد توحید ہے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:364/7:] ‏ محمد بن منکدر کہتے ہیں مراد «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» ہے۔

پھر مشرکوں کافروں کی مثال بیان ہوئی کہ ” جیسے کوئی شخص پانی کی طرف ہاتھ پھیلائے ہوئے ہو کہ اس کے منہ میں خودبخود پہنچ جائے تو ایسا نہیں ہونے کا۔ اسی طرح یہ کفار جنہیں پکارتے ہیں اور جن سے امیدیں رکھتے ہیں، وہ ان کی امیدیں پوری نہیں کرنے کے “۔

اور یہ مطلب بھی ہے کہ ” جیسے کوئی اپنی مٹھیوں میں پانی بند کرلے تو وہ رہنے کا نہیں “۔ پس باسط قابض کے معنی میں ہے۔

عربی شعر میں «فَإِنِّي وَإيَّاكُمْ وَشَوْقًا إِلَيْكُمُ كَقَابِضِ مَاءٍ لَمْ تَسْقِهِ أَنَامِلُهُ» «فَأَصْبَحْتُ ممَّا كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهَا» «مِنَ الوُدِّ مِثْلَ الْقَابِضِ الْمَاءَ بِالْيَدِ» بھی «قَابِضِ الْمَاءَ» آیا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:364/7:] ‏

پس جیسے پانی مٹھی میں روکنے والا اور جیسے پانی کی طرف ہاتھ پھیلانے والا پانی سے محروم ہے، ایسے ہی یہ مشرک اللہ کے سوا دوسروں کو گو پکاریں لیکن رہیں گے محروم ہی دین دنیا کا کوئی فائدہ انہیں نہ پہنچے گا۔ ان کی پکار بےسود ہے۔

صفحہ نمبر4138