تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: القيامة ١:٧٥

١:٧٥
لا اقسم بيوم القيامة ١
لَآ أُقْسِمُ بِيَوْمِ ٱلْقِيَـٰمَةِ ١
لَآ
أُقۡسِمُ
بِيَوۡمِ
ٱلۡقِيَٰمَةِ
١
أقسم الله سبحانه بيوم الحساب والجزاء، وأقسم بالنفس المؤمنة التقية التي تلوم صاحبها على ترك الطاعات وفِعْل الموبقات، أن الناس سيبعثون. أيظنُّ هذا الإنسان الكافر أن لن نقدر على جَمْع عظامه بعد تفرقها؟ بلى سنجمعها، قادرين على أن نجعل أصابعه أو أنامله -بعد جمعها وتأليفها- خَلْقًا سويًّا، كما كانت قبل الموت.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 75:1إلى 75:19

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تو آپ اس کو لینے میں جلدی فرماتے۔ اس سے آپ کو منع کردیا گیا۔ اس سلسلہ میں مزید فرمایا کہ قرآن کا جو حصہ اتر چکا ہے اور جو تم کو مخاطب بنا رہا ہے، اس پر ساری توجہ صرف کرو، نہ کہ قرآن کے اس بقیہ حصہ پر جو ابھی اترا نہیں اور جس نے ابھی تم کو مخاطب نہیں بنایا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ جس وقت جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف نہ ہو اس کے پیچھے دوڑنا ’’عجلت‘‘ ہے جو قرآنی حکمت کے سراسر خلاف ہے۔