Iniciar sesión
Iniciar sesión
Iniciar sesión
Seleccionar idioma

Tafsir: Al-Isrá 17:95

17:95
قل لو كان في الارض ملايكة يمشون مطمينين لنزلنا عليهم من السماء ملكا رسولا ٩٥
قُل لَّوْ كَانَ فِى ٱلْأَرْضِ مَلَـٰٓئِكَةٌۭ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ مَلَكًۭا رَّسُولًۭا ٩٥
قُل
لَّوۡ
كَانَ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
مَلَٰٓئِكَةٞ
يَمۡشُونَ
مُطۡمَئِنِّينَ
لَنَزَّلۡنَا
عَلَيۡهِم
مِّنَ
ٱلسَّمَآءِ
مَلَكٗا
رَّسُولٗا
٩٥
Diles: “Si los ángeles habitaran la Tierra, entonces les habría enviado del cielo un ángel como Mensajero”.
Tafsires
Capas
Lecciones
Reflexiones.
Respuestas
Qiraat
Hadith
Estás leyendo un tafsir para el grupo de versículos 17:94 hasta 17:95
فکری مغالطے اور کفار ٭٭

اکثر لوگ ایمان سے اور رسولوں کی تابعداری سے اسی بنا پر رک گئے کہ انہیں یہ سمجھ نہ آیا کہ کوئی انسان بھی رسول بن سکتا ہے۔ «أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ رَجُلٍ مِّنْهُمْ أَنْ أَنذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا» ‏ [10-يونس:2] ‏

” یعنی وہ اس پر سخت تر متعجب ہوئے اور آخر انکار کر بیٹھے اور صاف کہہ گئے کہ کیا ایک انسان ہماری رہبری کرے گا؟ “

فرعون اور اس کی قوم نے بھی یہی کہا تھا کہ «فَقَالُوا أَنُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُهُمَا لَنَا عَابِدُونَ» [23-المؤمنون:47] ‏

” یعنی ہم اپنے جیسے دو انسانوں پر ایمان کیسے لائیں خصوصا اس صورت میں کہ ان کی ساری قوم ہماری ماتحتی میں ہے۔ “

یہی اور امتوں نے اپنے زمانے کے نبیوں سے کہا تھا کہ «إِنْ أَنتُمْ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا تُرِيدُونَ أَن تَصُدُّونَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا فَأْتُونَا بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ» [14-إبراهيم:10] ‏

” یعنی تم تو ہم جیسے ہی انسان ہو، سوا اس کے کچھ نہیں کہ تم ہمیں اپنے بڑوں کے معبودوں سے بہکا رہے ہو، اچھا لاؤ کوئی زبردست ثبوت پیش کرو۔ “ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں۔

صفحہ نمبر4810

اس کے بعد اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے لطف و کرم اور انسانوں میں سے رسولوں کے بھیجنے کی وجہ کو بیان فرماتا ہے اور اس حکمت کو ظاہر فرماتا ہے کہ اگر فرشتے رسالت کا کام انجام دیتے تو نہ ان کے پاس تم بیٹھ اٹھ سکتے نہ ان کی باتیں پوری طرح سے سمجھ سکتے۔ انسانی رسول چونکہ تمہارے ہی ہم جنس ہوتے ہیں تم ان سے خلا ملا رکھ سکتے ہو، ان کی عادات و اطوار دیکھ سکتے ہو اور مل جل کر ان سے اپنی زبان میں تعلیم حاصل کر سکتے ہو، ان کا عمل دیکھ کر خود سیکھ سکتے ہو۔

جیسے فرمان ہے آیت «‏لَقَدْ مَنَّ اللَّـهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ» ‏ [3-آل عمران:164] ‏ الخ۔

اور آیت میں ہے «لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ» ‏ [9-التوبة:128] ‏ الخ۔

اور آیت میں ہے «‏كَمَا أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًا مِّنكُمْ يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ» ‏ [2-البقرة:151-152] ‏۔

مطلب سب کا یہی ہے کہ یہ تو اللہ کا زبردست احسان ہے کہ اس نے تم میں سے ہی اپنے رسول بھیجے کہ وہ آیات الٰہی تمہیں پڑھ کر سنائیں، تمہارے اخلاق پاکیزہ کریں اور تمہیں کتاب و حکمت سکھائیں اور جن چیزوں سے تم بےعلم تھے وہ تمہیں عالم بنا دیں۔ پس تمہیں میری یاد کی کثرت کرنی چاہیئے تاکہ میں بھی تمہیں یاد کروں۔ تمہیں میری شکر گزاری کرنی چاہیئے اور ناشکری سے بچنا چاہیئے۔ یہاں فرماتا ہے کہ اگر زمین کی آبادی فرشتوں کی ہوتی تو بیشک ہم کسی آسمانی فرشتے کو ان میں رسول بنا کر بھیجتے چونکہ تم خود انسان ہو ہم نے اسی مصلحت سے انسانوں میں سے ہی اپنے رسول بنا کر تم میں بھیجے۔

صفحہ نمبر4811