Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Isra 17:61

17:61
واذ قلنا للملايكة اسجدوا لادم فسجدوا الا ابليس قال ااسجد لمن خلقت طينا ٦١
وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَـٰٓئِكَةِ ٱسْجُدُوا۟ لِـَٔادَمَ فَسَجَدُوٓا۟ إِلَّآ إِبْلِيسَ قَالَ ءَأَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِينًۭا ٦١
وَإِذۡ
قُلۡنَا
لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ
ٱسۡجُدُواْ
لِأٓدَمَ
فَسَجَدُوٓاْ
إِلَّآ
إِبۡلِيسَ
قَالَ
ءَأَسۡجُدُ
لِمَنۡ
خَلَقۡتَ
طِينٗا
٦١
And ˹remember˺ when We said to the angels, “Prostrate before Adam,” so they all did—but not Iblîs,1 who protested, “Should I prostrate to the one You have created from mud?”
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 17:61 to 17:62
ابلیس کی قدیمی دشمنی ٭٭

ابلیس کی قدیمی عداوت سے انسان کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ وہ تمہارے باپ آدم علیہ السلام کا کھلا دشمن تھا، اس کی اولاد برابر اسی طرح تمہاری دشمن ہے، سجدے کا حکم سن کر سب فرشتوں نے تو سر جھکا دیا لیکن اس نے تکبر جتایا، اسے حقیر سمجھا اور صاف انکار کر دیا کہ ناممکن ہے کہ میرا سر کسی مٹی سے بنے ہوئے کے سامنے جھکے، «أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ» [7-الأعراف:12] ‏ ” میں اس سے کہیں افضل ہوں، میں آگ ہوں یہ خاک ہے۔ “

پھر اس کی ڈھٹائی دیکھیئے کہ اللہ جل و علی کے دربار میں گستاخانہ لہجے سے کہتا ہے کہ اچھا اسے اگر تو نے مجھ پر فضیلت دی تو کیا ہوا میں بھی اس کی اولاد کو برباد کر کے ہی چھوڑوں گا، سب کو اپنا تابعدار بنا لوں گا اور بہکا دوں گا، بس تھوڑے سے میرے پھندے سے چھوٹ جائیں گے، باقی سب کو غارت کر دوں گا۔

صفحہ نمبر4735