Войти
Войти
Войти
Выберите язык

Тафсир: Al-A'raf 7:144

7:144
قال يا موسى اني اصطفيتك على الناس برسالاتي وبكلامي فخذ ما اتيتك وكن من الشاكرين ١٤٤
قَالَ يَـٰمُوسَىٰٓ إِنِّى ٱصْطَفَيْتُكَ عَلَى ٱلنَّاسِ بِرِسَـٰلَـٰتِى وَبِكَلَـٰمِى فَخُذْ مَآ ءَاتَيْتُكَ وَكُن مِّنَ ٱلشَّـٰكِرِينَ ١٤٤
قَالَ
يَٰمُوسَىٰٓ
إِنِّي
ٱصۡطَفَيۡتُكَ
عَلَى
ٱلنَّاسِ
بِرِسَٰلَٰتِي
وَبِكَلَٰمِي
فَخُذۡ
مَآ
ءَاتَيۡتُكَ
وَكُن
مِّنَ
ٱلشَّٰكِرِينَ
١٤٤
Он сказал: «О Муса (Моисей)! Я возвысил тебя над людьми благодаря Моему посланию и Моей беседе. Посему возьми то, что Я даровал тебе, и будь одним из благодарных».
Тафсиры
Слои
Уроки
Размышления
Ответы
Кираат
Хадис
Вы читаете тафсир для группы стихов 7:144 до 7:145
انبیاء کی فضیلت پر ایک تبصرہ ٭٭

موسیٰ علیہ السلام کو جناب باری فرماتا ہے کہ دوہری نعمت آپ کو عطا ہوئی یعنی رسالت اور ہم کلامی۔ مگر چونکہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام اول و آخر نبیوں کے سردار ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے رسالت ختم کرنے والا آپ کو بنایا کہ قیامت تک آپ ہی کی شریعت جاری رہے گی اور تمام انبیاء اور رسولوں سے آپ کے تابعدار تعداد میں زیادہ ہوں گے۔ فضیلت کے اعتبار سے آپ کے بعد سب سے افضل ابراہیم علیہ السلام ہیں جو خلیل اللہ تھے۔ پھر موسیٰ علیہ السلام ہیں جو کلیم اللہ تھے۔

اے موسیٰ! جو مناجات اور کلام تجھے میں نے دیا ہے، وہ لے لے اور مضبوطی سے اس پر استقامت رکھ اور اس پر جتنا تجھ سے ہو سکے، شکر بجا لایا کر۔ کہا گیا ہے کہ تورات کی تختیاں جواہر کی تھیں اور ان میں اللہ تعالیٰ نے تمام احکام حلال حرام کے تفصیل کے ساتھ لکھ دیئے تھے۔ ان ہی تختیوں میں تورات تھی جس کے متعلق فرمان ہے کہ اگلے لوگوں کی ہلاکت کے بعد ہم نے موسیٰ کو لوگوں کی ہدایت کے لیے کتاب عطا فرمائی۔ یہ بھی مروی ہے کہ تورات سے پہلے یہ تختیاں ملی تھیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

الغرض دیدار الٰہی جس کی تمنا آپ نے کی تھی، اس کے عوض یہ چیز آپ کو ملی۔ کہا گیا: اسے ماننے کے ارادے سے لے لو اور اپنی قوم کو ان اچھائیوں پر عمل کرنے کی ہدایت کرو۔ آپ کو زیادہ تاکید ہوئی اور قوم کو ان سے کم۔ تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میری حکم عدولی کرنے والے کا کیا انجام ہوتا ہے؟ جیسے کوئی کسی کو دھمکاتے ہوئے کہے کہ تم میری مخالفت کا انجام بھی دیکھ لو گے۔ یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ میں تمہیں شام کے بدکاروں کے گھروں کا مالک بنا دوں گا۔ یا مراد اس سے فرعونیوں کا ترکہ ہو۔ لیکن پہلی بات ہی زیادہ ٹھیک معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہ فرمان تیہ کے میدان سے پہلے اور فرعون سے نجات پا لینے کے بعد کا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر3064