Iniciar sesión
Iniciar sesión
Iniciar sesión
Seleccionar idioma

Tazkir ul Quran Tafsir: Al-An’ám Ayah 6

6:6
الم يروا كم اهلكنا من قبلهم من قرن مكناهم في الارض ما لم نمكن لكم وارسلنا السماء عليهم مدرارا وجعلنا الانهار تجري من تحتهم فاهلكناهم بذنوبهم وانشانا من بعدهم قرنا اخرين ٦
أَلَمْ يَرَوْا۟ كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍۢ مَّكَّنَّـٰهُمْ فِى ٱلْأَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّن لَّكُمْ وَأَرْسَلْنَا ٱلسَّمَآءَ عَلَيْهِم مِّدْرَارًۭا وَجَعَلْنَا ٱلْأَنْهَـٰرَ تَجْرِى مِن تَحْتِهِمْ فَأَهْلَكْنَـٰهُم بِذُنُوبِهِمْ وَأَنشَأْنَا مِنۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا ءَاخَرِينَ ٦
أَلَمۡﲈ
يَرَوۡاْﲉ
كَمۡﲊ
أَهۡلَكۡنَاﲋ
مِنﲌ
قَبۡلِهِمﲍ
مِّنﲎ
قَرۡنٖﲏ
مَّكَّنَّٰهُمۡﲐ
فِيﲑ
ٱلۡأَرۡضِﲒ
مَاﲓ
لَمۡﲔ
نُمَكِّنﲕ
لَّكُمۡﲖ
وَأَرۡسَلۡنَاﲗ
ٱلسَّمَآءَﲘ
عَلَيۡهِمﲙ
مِّدۡرَارٗاﲚ
وَجَعَلۡنَاﲛ
ٱلۡأَنۡهَٰرَﲜ
تَجۡرِيﲝ
مِنﲞ
تَحۡتِهِمۡﲟ
فَأَهۡلَكۡنَٰهُمﲠ
بِذُنُوبِهِمۡﲡ
وَأَنشَأۡنَاﲢ
مِنۢﲣ
بَعۡدِهِمۡﲤ
قَرۡنًاﲥ
ءَاخَرِينَﲦ
٦ﲧ
¿Acaso no ven cuántas generaciones anteriores a ellos he destruido? Les había concedido a ellos más poder en la Tierra que el que ustedes tienen, e hice descender sobre ellos lluvia en abundancia, y que bajo sus pies fluyeran ríos (y manantiales). No obstante, los hice perecer a causa de sus pecados [por negar a sus profetas], e hice surgir después de ellos nuevas generaciones.
Tafsires
Capas
Lecciones
Reflexiones.
Respuestas
Qiraat
Hadith
Estás leyendo un tafsir para el grupo de versículos 6:4 hasta 6:6

خدا اور آخرت کی دعوت جو خدا کی براہِ راست تائید سے اٹھی ہو اس کے ساتھ واضح علامتیں ہوتی ہیں جو اس بات کا اعلان کر رہی ہوتی ہیں کہ یہ ایک سچی دعوت ہےاور خدا كي طرف سے هے— اس كا اس فطرت كے انداز پر هونا جس پر خدا كي ابدي دنيا كا نظام قائم هے۔اس کا ایسے دلائل کی بنیاد پر اٹھنا جس کا توڑ کسی کے لیے ممکن نہ ہو۔ اس کی پشت پر ایسے داعی کا ہونا جس کی سنجیدگی اور اخلاق پر شبہ نہ کیا جاسکتا ہو۔ اس کے ساتھ ایسے تائیدی واقعات کا وابستہ ہونا کہ مخالفین اپنی برتر قوت کے باوجود اس کے خلاف اپنے تخریبی منصوبوں میں کامیاب نہ ہوئے ہوں۔ اس طرح کے واضح قرائن ہیں جو اس کے برحق ہونے کی طرف کھلا اشارہ کررہے ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود انسان اس پر یقین نہیں کرتا اور اس کا ساتھ دینے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تمام تائیدی قرائن اپنی ساری وضاحت کے باوجود ہمیشہ اسباب کے پردہ میںظاہر ہوتے ہیں۔ آدمی کے سامنے جب یہ قرآئن آتے ہیں تو وہ ان کو مخصوص اسباب کی طرف منسوب کرکے انھیں نظر انداز کردیتا ہے، اس کا ذہن اعتراف کے رخ پر چلنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا۔ وہ کہتا ہے کہ یہ دعوت اگر خدا کی طرف سے ہوتی تو خدااور فرشتے برہنہ صورت میں اس کے ساتھ موجود ہوتے۔ حالاں کہ یہ خیال سراسر باطل ہے۔ کیوںکہ خدااور فرشتے جب برہنہ صورت میں سامنے آجائیں تو وہ فیصلہ کا وقت ہوتا ہے، نہ کہ دعوت اور تبلیغ کا۔

جن لوگوں کو زمین میں جماؤ حاصل ہو، جنھوں نے اپنے لیے معاشی سازوسامان جمع کرلیا ہو، جن کو اپنے آس پاس عظمت ومقبولیت کے مظاہر دکھائی دیتے ہوں وہ ہمیشہ غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں۔ وہ اپنے گرد جمع شدہ چیزوں کے مقابلہ میں ان چیزوں کو حقیر سمجھ لیتے ہیں، جو داعی حق کے گرد خدا نے جمع کی ہیں۔ ان کی یہ خود اعتمادی اتنا بڑھتی ہے کہ وہ خدا کی طرف سے بھی بے خوف ہوجاتے ہیں۔ وہ داعی حق کی اس تنبیہ کا مذاق اڑانے لگتے ہیں کہ تمھاری سرکشی جاری رہی تو تمھاری مادی ترقیاں تم کو خدا کی پکڑ سے نہ بچاسکیں گی۔ داعی حق کو ناچیز سمجھنا ان کی نظر میں داعی کی تنبیہات کو بھی ناچیز بنا دیتاہے۔ ماضی کے وہ تاریخی واقعات بھی ان کو سبق دینے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوتے جب کہ بڑے بڑے مادی استحکام کے باوجود خدانے لوگوں کو اس طرح مٹا دیا جیسے ان کی کوئی قیمت ہی نہ تھی — زمین میں بار بار ایک قوم کا گرنا اور دوسری قوم کا ابھرنا ظاہر کرتا ہے کہ یہاںمکافات کا قانون نافذ ہے۔ مگر آدمی سبق نہیں لیتا۔ پچھلے لوگ دوبارہ اسی عمل کو دہراتے ہیں جس کی وجہ سے اگلے لوگ برباد ہوگئے۔