Iniciar sesión
Iniciar sesión
Iniciar sesión
Seleccionar idioma

Tafsir: Al-An’ám 6:143

6:143
ثمانية ازواج من الضان اثنين ومن المعز اثنين قل الذكرين حرم ام الانثيين اما اشتملت عليه ارحام الانثيين نبيوني بعلم ان كنتم صادقين ١٤٣
ثَمَـٰنِيَةَ أَزْوَٰجٍۢ ۖ مِّنَ ٱلضَّأْنِ ٱثْنَيْنِ وَمِنَ ٱلْمَعْزِ ٱثْنَيْنِ ۗ قُلْ ءَآلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ ٱلْأُنثَيَيْنِ أَمَّا ٱشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۖ نَبِّـُٔونِى بِعِلْمٍ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ ١٤٣
ثَمَٰنِيَةَ
أَزۡوَٰجٖۖ
مِّنَ
ٱلضَّأۡنِ
ٱثۡنَيۡنِ
وَمِنَ
ٱلۡمَعۡزِ
ٱثۡنَيۡنِۗ
قُلۡ
ءَآلذَّكَرَيۡنِ
حَرَّمَ
أَمِ
ٱلۡأُنثَيَيۡنِ
أَمَّا
ٱشۡتَمَلَتۡ
عَلَيۡهِ
أَرۡحَامُ
ٱلۡأُنثَيَيۡنِۖ
نَبِّـُٔونِي
بِعِلۡمٍ
إِن
كُنتُمۡ
صَٰدِقِينَ
١٤٣
[Ellos alegan falsamente que] ocho reses en parejas [están prohibidas]: del ovino dos[1] y del cabrío dos[2]. Pregúntales entonces: “¿Qué les ha prohibido [Dios], los dos machos, las dos hembras, o lo que se encuentra en el vientre de las dos hembras? Fundamenten lo que afirman, si es que son sinceros”. 1
Tafsires
Capas
Lecciones
Reflexiones.
Respuestas
Qiraat
Hadith
Estás leyendo un tafsir para el grupo de versículos 6:143 hasta 6:144
خود ساختہ حلال و حرام جہالت کا ثمر ہے ٭٭

اسلام سے پہلے عربوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ انہوں نے چوپائے جانوروں میں تقسیم کر کے اپنے طور پر بہت سے حلال بنائے تھے اور بہت سے حرام کر لیے تھے جیسے بحیرہ، سائبہ، وسیلہ اور حام وغیرہ -اسی طرح کھیت اور باغات میں بھی تقسیم کر رکھی تھی۔

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ” سب کا خالق اللہ ہے، کھیت ہوں باغات ہوں، چوپائے ہوں “، پھر ان چوپایوں کی قسمیں بیان فرمائیں ” بھیڑ، مینڈھا، بکری، بکرا، اونٹ، اونٹنی، گائے، بیل۔ اللہ نے یہ سب چیزیں تمہارے کھانے پینے، سواریاں لینے، اور دوری قسم کے فائدوں کے لیے پیدا کی ہیں “۔

جیسے فرمان ہے آیت «وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ يَخْلُقُكُمْ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْ بَعْدِ خَلْقٍ فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ» [39-الزمر:6] ‏ ” اس نے تمہارے لیے آٹھ قسم کے مویشی پیدا کئے ہیں “۔ بچوں کا ذکر اس لیے کیا کہ ان میں بھی کبھی وہ مردوں کیلئے مخصوص کر کے عورتوں پر حرام کر دیتے تھے پھر ان سے ہی سوال ہوتا ہے کہ آخر اس حرمت کی کوئی دلیل کوئی کیفیت کوئی وجہ تو پیش کرو۔ چار قسم کے جانور اور مادہ اور نر ملا کر آٹھ قسم کے ہوگئے، ان سب کو اللہ نے حلال کیا ہے کیا تو اپنی دیکھی سنی کہہ رہے ہو؟ اس فرمان الٰہی کے وقت تم موجود تھے؟ کیوں جھوٹ کہہ کر افترا پردازی کرکے بغیر علم کے باتیں بنا کر اللہ کی مخلوق کی گمراہی کا بوجھ اپنے اوپر لاد کر سب سے بڑھ کر ظالم بن رہے ہو؟ اگر یہی حال رہا تو دستور ربانی کے ماتحت ہدایت الٰہی سے محروم ہو جاؤ گے۔

سب سے پہلے یہ ناپاک رسم عمرو بن لحی بن قمعہ خبیث نے نکالی تھی اسی نے انبیاء علیہم السلام کے دین کو سب سے پہلے بدلا اور غیر اللہ کے نام پر جانور چھوڑے۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں آ چکا ہے۔ [صحیح بخاری:4624] ‏

صفحہ نمبر2785