VERSES
11
PAGES
596-596

نام :

 

 پہلے ہی لفظ وَالضُّحٰی

کو اس سورہ کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانۂ نزول :

  

اس کا مضمون صاف بتا رہا ہے کہ یہ مکّۂ معظمہ کے بالکل ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہے۔ روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ کچھ مدت تک وحی کے نزول کا سلسلہ بند رہا تھا جس سے حضورؐ سخت پریشان ہو گئے تھے اور بار بار آپؐ کو یہ اندیشہ لاقح ہو رہا تھا کہ کہیں مجھ سے کوئی ایسا قصور تو نہیں ہو گیا جس کی وجہ سے میرا ربّ مجھ سے ناراض ہو گیا ہے اور اس نے مجھے چھوڑ دیا ہے۔ اس پر آپ ؐ کو اطمینان دلایا گیا  کہ وحی کے نزول کا سلسلہ کسی ناراضی کی بنا پر نہیں روکا گیا تھا، بلکہ اس میں وہی مصلحت کار فرما تھی جو روزِ روشن کے بعد رات  کا سکون طاری کرنے میں کار فرما ہوتی ہے۔ یعنی وحی کی تیز روشنی اگر آپؐ پر برابر پڑتی رہتی تو آپؐ کے اعصاب اسے برداشت نہ کر سکتے ، اس لیے بیچ میں وقفہ  دیا گیا تا کہ آپ ؐ کو سکون مل جائے ۔ یہ کیفیت حضورؐ پر نبوت کے ابتدائی دور میں گزرتی تھی جبکہ ابھی آپؐ کو وحی کے نزول کی شدّت برداشت کرنے کی عادت نہیں پڑی تھی، اِس بنا پر بیچ بیچ میں وقفہ دینا ضروری ہوتا تھا۔ اس کی وضاحت ہم سورۂ مدَّثِّر کے دیباچے میں کر چکے ہیں۔ اور سورۂ  مُزَّمِّل حاشیہ ۵ میں ہم یہ بھی بیان کر چکے ہیں کہ نزولِ وحی کا کس قدر شدید بار آپ ؐ کےاعصاب پر پڑتا تھا۔ بعد میں جب حضور ؐ کے اندر اس بار کو برداشت کرنے کا تحمُّل پیدا ہو گیا تو طویل وقفے  دینے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

موضوع اور مضمون:

 

اِس کا موضوع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلّی دینا ہے اور مقصد اُس پریشانی کو دور کرنا ہے جو نزولِ وحی کا سلسلہ رک جانے سے آپ ؐ کو لاحق ہوگئی تھی۔ سب سے پہلے روزِ روشن اور سکونِ شب کی قسم کھا کر آپؐ کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ آپ ؐ کے  ربّ نے آپ کو ہر گز نہیں چھوڑا ہے اور نہ وہ آپؐ سے ناراض ہوا ہے۔ اس کے بعد آپؐ کو خوشخبری دی گئی ہے کہ دعوتِ اسلامی کے ابتدائی دور میں جن شدید مشکلات سے آپ ؐ کو سابقہ پیش آرہا ہے یہ تھوڑے دنوں کی بات ہے ۔ آپؐ کے لیے ہر بعد کا دور پہلے دور سے بہتر ہو تا چلا جائے گا اور کچھ زیادہ دیر نہ گزرے گی کہ اللہ تعالیٰ آپؐ پر اپنی عطا و بخشش کی ایسی بارش کرے گا  جس سے آپ ؐ خوش ہو جائیں گے۔ یہ قرآن کی اُن صریح پیشنگوئیوں میں سے ایک  ہے جو بعد میں حرف بحرف پوری ہوئیں ، حالانکہ جس وقت یہ پیشنگوئی کی گئی تھی اُس وقت کہیں دُور دُور بھی اِس کے آثار نظر نہ آتے تھے کہ مکّہ میں جو بے یار و مددگار انسان پوری قوم کی جاہلیّت کے مقابلے میں برسر پیکار ہو گیا ہے اُسے اِتنی حیرت انگیز کامیابی نصیب ہوگی۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ہے کہ تمہیں یہ پریشانی کیسے لاحق ہو گئی کہ ہم نے تمہیں چھوڑ دیا ہے اور  ہم تم سے ناراض ہو گئے ہیں۔ ہم تو تمہارے روزِ پیدائش سے مسلسل تم پر مہربانیاں کرتے چلے آرہے ہیں ۔ تم یتیم پیدا ہوئے تھے ، ہم نے تمہاری پرورش  اور خبر گیری کا بہترین انتظام  کر دیا۔ تم ناواقف ِ راہ تھے ، ہم نے تمہیں  راستہ بتایا ۔ تم نادار تھے، ہم نے تمہیں مالدار بنایا۔ یہ ساری باتیں صاف بتا رہی ہیں کہ تم ابتداء سے ہمارے منظورِ نظر  ہو اور ہمارا فضل و کرم مستقل طور پر تمہارے شاملِ حال ہے۔ اس مقام پر سورۂ طٰہٰ ، آیات ۳۷ تا ۴۲  کو بھی نگاہ میں رکھا جائے جہاں حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون جیسے جبّار کے مقابلہ میں بھیجتے وقت اللہ تعالیٰ نے اُن کی پریشانی دور کرنے کے لیے انہیں بتایا ہے کہ کس طرح تمہاری پیدائش کے وقت سے ہماری مہربانیاں تمہارے شامل حال رہی ہیں ، اس لیے تم اطمینان رکھو کہ  اِس خوفناک مہم میں تم اکیلے نہ ہو گے بلکہ ہمارا فضل  تمہارے ساتھ ہوگا۔

آخر میں اللہ  تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا ہے کہ جو احسانات ہم نے تم پر کیے ہیں ان کے جواب میں خلق خدا کے ساتھ تمہارا کیا برتاؤ ہونا چاہیے ، اور ہماری نعمتوں کا شکر تمہیں کس طرح ادا کرنا چاہیے۔

Source: سید ابو اعلیٰ مودودیؒ - تفہیم القرآن