VERSES
40
PAGES
582-583

نام :

    

دوسری  آیت  کے فقرے عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِ کے لفظ اَلنَّبَا کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے، اور یہ صرف نام ہی نہیں ہے بلکہ اس سُورۃ کے مضامین کا عنوان بھی ہے، کیونکہ نَبا سے مراد قیامت اور آخرت کی خبر ہے اور سُورۃ میں ساری بحث اسی پر کی گئی ہے۔

زمانۂ نزول :

     جیسا کہ ہم سُورہ مُرْسَلات کے دیباچے میں بیان کر چکے ہیں، سورہ قیامت سے سورہ نازعات تک سب کا مضمون ایک دوسرے سے مشابہ ہے اور یہ سب مکہ معظمہ کے ابتدائی دَور کے نازل شدہ معلوم ہوتی ہیں۔

موضوع اور مضمون:

      اس کا مضمون  بھی وہی ہے جو سُورہ مُرسَلات کا ہے، یعنی قیامت اور آخرت کا اِثبات ، اور اُس کو ماننے یا نہ ماننے کے نتاَئج سے لوگوں کو خبر دار کرنا۔

مکہ معظمہ میں جب اوّل اوّل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی تبلیغ کا آغاز کیا تو اس کی بنیاد تین چیزیں تھیں۔ ایک یہ بات کہ اللہ کے ساتھ کسی  کوخدائی میں شریک نہ مانا جائے۔ دوسری یہ کہ آپؐ کو اللہ نے اپنا رسول مقرر کیا ہے۔ تیسری یہ کہ اِس دنیا کا ایک روز خاتمہ ہوجائے گا اور اس کے بعد ایک دوسرا عالم بر پا ہو گا جس میں تمام اوّلین و آخرین دوبارہ زندہ کر کے اُسی جسم کے ساتھ اُٹھائے جائیں گے جس میں رہ کر انہوں نے دنیا میں کام کیا تھا، پھر ان کے عقائد اور اعمال کا  حساب لیا جائے گا اور اس محاسبہ میں جو لوگ مومن و صالح ثابت ہونگے وہ ہمیشہ کے لیے جنت میں جائیں گے اور جو کافر و فاسق ہوں گے وہ ہمیشہ کے لیے دوزخ میں رہیں گے۔

ان تینوں باتو ں میں سے پہلی بات اگرچہ اہلِ مکہ کو سخت نا گوار تھی، لیکن بہر حال وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کے منکر نہ تھے، اُس کے ربِّ اعلیٰ اور خالق و رازق ہونے کو بھی مانتے تھے، اور یہ بھی تسلیم کرتے تھے کہ دوسری جن جن ہستیوں کو وہ معبُود قرار دیتے ہیں وہ اللہ ہی کی مخلوق ہیں، اِس لیے جھگڑا صرف اِس امر میں تھا کہ خدائی کی صفات و اختیارات میں اور الُو ہیت کی ذات میں اُن کی کوئی شرکت ہے یا نہیں ۔

دوسری بات کو مکے کے لوگ ماننے کے لیے تیار نہ تھے، مگر اس امر سے انکار کرنا اُن کے لیے ممکن نہ تھا کہ چالیس سال تک جو زندگی حضورؐ نے دعوائے رسالت سے پہلے اُنہی کے درمیان گزار ی تھی، اس میں انہوں نے کبھی آپ کو جُھوٹا یا فریب کار، یا نفسانی اغراض کے لیے ناجائز طریقے اختیار کرنے والا نہ پایا تھا۔ وہ خود آپ کی دانائی و فرزانگی، سلامت روی اور اخلاق کی بلندی کے قائل و متعرف تھے۔ اس لیے ہزار بہانے اور الزامات تراشنے کے با وجود اُنہیں دوسروں کو باور کرانا تو درکنار اپنی جگہ خود بھی یہ باور کرنے میں سخت مشکل پیش آرہی تھی کہ حضورؐ سارے معاملات میں تو راستباز ہیں مگر صرف رسالت کے دعوے میں معاذ اللہ جُھوٹے ہیں۔

اس طرح پہلی دو باتیں اہلِ مکہ کے لیے  دراصل اُتنی زیادہ اُلجھن کی مُوجب نہ تھیں جتنی تیسری بات تھی۔ اُس کو جب اُن کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے سب سے زیادہ اُسی کا مذاق اُڑایا، اُسی پر سب سے بڑھ کر حیرانی اور تعجب کا اظہار کیا، اور اُسے بالکل بعید از عقل و امکان سمجھ کر جگہ جگہ اس کے ناقابلِ یقین بلکہ نا قابلِ تصوّر ہونے کے چرچے شروع کر دیے۔ مگر اسلام کی راہ پر  اُن کو لانے کے لیے یہ قطعی ناگزیر تھا کہ آخرت کا  عقیدہ اُن کے ذہن میں اُتار ا جائے، کیونکہ اِس عقیدے کو مانے بغیر یہ ممکن ہی نہ تھا کہ حق اور باطل کے معاملہ میں اُن کے طرزِ فکر سنجیدہ ہو سکتا، خیر وشر کے معاملہ میں اُن کا معیارِ اقدار بدل سکتا، اور وہ دنیا پرستی کی راہ چھوڑ کر اُس راہ پر ایک قدم بھی چل سکتے جس پر اسلام اُن کو چلانا چاہتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مکّہ معظمہ کے ابتدائی دور کی سُورتوں میں زیادہ تر روز آخرت کا  عقیدہ دلوں میں بٹھانے پر صرف کیا گیا ہے، البتہ اس کے لیے دلائل ایسے انداز سے دیے گئے ہیں جن سے توحید کا تصور بھی  خود بخود ذہن نشین ہو تا چلا جاتا ہے، اور بیچ بیچ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کے بر حق ہونے کے دلائل بھی مختصراً دے دیے گئے ہیں۔

اِس دور کی سُورتوں میں آخرت کے مضمون کی اِس تکرار کا سبب اچھی طرح سمجھ لینے کے بعد اب اِس سُورۃ کے مضامین پر ایک نگاہ ڈال لیجیے۔ اس میں سب سے پہلے اُن چرچوں اور چہ میگوئیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو قیامت کی خبر سُن کر مکّہ کے ہر کوچہ و بازار اور ہلِ مکہ کی ہر محفل میں ہو رہی تھیں۔ اس کے بعد انکار کرنے والوں سے پوچھا گیا ہے کہ کیا تمہیں یہ زمین نظر نہیں اتی جسے ہم نے تمہارے لیے فرش بنا رکھا ہے؟ کیا یہ بلند و بالا پہاڑ تمہیں نظر نہیں آتے جنہیں ہم نے زمین میں گاڑ رکھا ہے؟ کیا تم اپنے آپ کو نہیں  دیکھتے کہ کس طرح ہم نے تمہیں مردوں اور عورتوں کے جو ڑوں کی شکل میں پیدا کیا ہے؟ کیا تم اپنی نیند کو نہیں دیکھتے جس کے ذریعہ سے ہم نے تم کو دنیا میں کام کرنے کے قابل بنائے رکھنے کے لیے ہر چند گھنٹوں کی محنت کے بعد ہر چند گھنٹے آرام لینے پر مجبور کر رکھا ہے؟ کیا تم رات اور دن کی آمد ورفت کو نہیں دیکھتے جسے ٹھیک تمہاری ضرورت کے مطابق ہم باقاعدگی کے ساتھ مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں؟ کیا تم اپنے اوپر آسمانوں کے مضبوط بندھے ہوئے نظام کو نہیں دیکھتے ؟ کیا یہ سُورج تمہیں نظر نہیں آتا جس کی بدولت تمہیں روشنی اور حرارت میسر آ رہی ہے؟ کیا تم اُن بارشوں کو نہیں دیکھتے جو بادلوں سے برس رہی ہیں اور اُن کے ذریعہ سے غلّے اور سبزیاں اور گھنے باغ اگ رہے ہیں؟ یہ ساری چیزیں کیا  تمہیں یہی بتا رہی ہیں کہ جس قادرِ مطلق نے اِن کو پیدا کیا ہے اُس کی قدرت قیامت لانے  اور آخرت بر پا کرنے سے عاجز ہے؟ اور  اِس پُورے کا رخانے میں جو کمال درجے کی حکمت و دانائی صریحاً کار فرما ہے کیا اس کو دیکھتے ہوئے تمہاری سمجھ میں یہی آتا  ہے کہ اِس کارخانے کا  ایک ایک جُز اور ایک ایک فعل تو  با مقصد ہے مگر بجائے خود پُورا کارخانے بے مقصد ہے؟ آخر اس سے زیادہ لغو اور بے معنی بات کیا ہو سکتی ہے کہ اس کارخانے میں انسان کو پیش دست(

Foreman

) کے منصب پر مامور کر کے اسے یہاں  بڑے وسیع اختیارات تو دے دیے جائیں مگر جب وہ اپنا کام پورا کر کے یہاں سے رخصت ہو تو اسے یونہی چھوڑ دیا جائے؟ نہ کام بنا نے  پر  پنشن اور انعام ، نہ کام بگاڑنے پر باز پُرس  اور سزا؟ یہ دلائل دینے کے بعد پُورے زور کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ فیصلے  کا  دن یقیناً اپنے مقرر وقت پر آ کر رہے گا۔صُور میں بس ایک پُھونک مارنے کی دیر ہے ، وہ سب کچھ جس کی تمہیں خبر دی جا رہی ہے سامنے آجائے گا اور تم آج چاہے مانو یا نہ مانو، اُس وقت جہاں جہاں بھی تم مرے پڑے ہو گے وہاں سے فوج درفوج اپنا حساب دینے کے لیے نکل آؤ گے۔ تمہار اانکار اس  واقعہ کو پیش آنے سے نہیں روک سکتا۔ اس کے بعد آیت ۲۱ سے ۳۰ تک بتا یا گیا ہے کہ جو لوگ حساب کتاب کی توقع نہیں رکھتے اور جنہوں نے ہماری آیات کو جُھٹلا دیا ہے، ان کا ایک ایک کرتوت گن گن کر ہمارے ہاں لکھا ہوا ہے، اور ان کو خبر لینے کے لیے جہنم گھات لگا ئے ہوئے تیار ہے جہاں ان کے اعمال کا بھر پور بدلہ انہیں دے دیا جائے گا۔ پھر آیات ۳۱ سے ۳۲ تک ان لوگوں کی بہترین جزا بتائی گئی ہے جنہوں نے اپنے آپ کو ذمہ دار و جواب وہ سمجھ کر دنیا میں اپنی آخرت درست کرنے کی پہلے ہی فکر کر لی ہے، اور انہیں اطمینان دلایا گیا ہے کہ انہیں  ان کی خدمات کا صرف اجر ہی نہیں دیا جائے گا بلکہ اس سے زیادہ کافی انعام بھی دیا جائے گا۔ آخر میں خدا کی عدالت کا نقش کھینچا گیا ہے کہ وہاں کسی کے  اَڑ کر بیٹھ جانے اور اپنے تنوسلین کو بخشواکر چھوڑ نے کا کیا سوال، کوئی بلا اجازت زبا ن تک نہ کھول سکے گا، اور اجازت بھی اس شرط کےساتھ ملے گی کہ جس کے حق میں سفارش کا اِذن ہو صرف اس کے لیے سفارش کرے اور سفارشی میں کوئی بےجابات نہ کہے۔ نیز سفارش کی اجازت صرف ان لوگوں کے حق میں دی جائے گی جو دنیا میں کلمہ حق کے قائل رہے ہیں اور محض گناہ گار ہیں۔ خدا کے باغی اور حق کے منکر کسی سفارشی کے مستحق نہ ہوں گے۔

          پھر کلام کو اس تنبیہ پر ختم کیا گیا ہے کہ جس دن کے آنے کی خبر دی جا رہی ہے اس کا آنا بر حق ہے، اسے دور نہ سمجھو، وہ قریب ہی آئے گا ، اب جس کا جی چاہے اسے مان کر اپنے رب کا راستہ اختیار کر لے۔ لیکن اس تنبیہ  کے باوجود جو اس کا انکار کرے گا اس کا سارا کیا دھرا اس کے سامنے آجائے گا اور پھر وہ پچھتا پچھتا کر کہے گا کہ کاش میں دنیا میں پیدا ہی نہ ہوتا اس وقت اس کا یہ احساس اس دنیا کے بارے میں ہو گا جس پر وہ آج لٹو ہو رہا ہے۔

Source: سید ابو اعلیٰ مودودیؒ - تفہیم القرآن