VERSES
30
PAGES
562-564

نام :

پہلےفقرے تَبَارَکَ الَّذِی بِیَدِہِ المُلکُ

کے لفظ المُلک کو اس سورہ کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانہٴ نزول :

کسی مُعتبر روایت سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ یہ کس زمانے میں نازل ہوئی ہے، مگر مضامین اور اندازِ بیان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ مکہ معظمہ کے ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے۔

موضوع اور مضمون:

اس میں ایک طرف مختصر طریقے سے اسلام کی تعلیمات کا تعارف کرایا گیا ہے اور دوسری طرف بڑے بڑے موثر انداز میں اُن لوگوں کو چونکا یا گیا ہے۔ جو غفلت میں پڑے ہوئے تھے ۔ یہ مکہ معظمہ کی ابتدائی سورتوں کی خصوصیت ہے کہ وہ اسلام کی ساری تعلیمات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقصدِ بعثت کو پیش کر تی ہیں، مگر تفصیل کے ساتھ نہیں بلکہ اختصار کے ساتھ، تا کہ وہ بتدریج لوگوں کے ذہن نشین ہوتی چلی جائیں۔ اس کے ساتھ ان میں زیادہ تر زور اس بات پر صرف کیا جاتا ہے کہ لوگوں کی غفلت دور کی جائے، ان کو سوچنے پر مجبور کیا جائے ، اور ان کے سوئے ہوئے ضمیر کو بیدار کیا جائے۔

پہلی پانچ آیتوں میں انسان کو احساس دلایا گیا ہے کہ وہ جس کائنات میں رہتا ہے وہ ایک انتہائی منظم اور محکم سلطنت ہے جس میں ڈھونڈے سے بھی کوئی عیب یا نقص یا  خلل تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ اس سلطنت کو عدم سے وجود میں بھی اللہ تعالیٰ ہی لایا ہے اور اس کی تدبیر وانتظام اور فرمانروائی کے تمام اختیار ات بھی با لکل یہ اللہ ہی کے ہا تھ میں ہیں اور اس کی قدرت لامحدود ہے۔ اس کے ساتھ انسان کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس انتہائی حکیمانہ نظام میں وہ بے مقصد پیدا نہیں کر دیا گیا ہے بلکہ یہاں اسے امتحان کے لیے بھیجا گیا ہے ، اور اس امتحان میں وہ اپنے حسنِ عمل ہی سے کامیاب ہوسکتا ہے۔

آیت ۶ سے ۱۱ تک کفر کے وہ ہولناک نتائج بیان کیے گئے ہیں جو آخرت میں نکلنے والے ہیں اور لوگوں کو بتایاگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کو بھیج کر تمہیں اسی دنیا میں ان نتائج سے خبر دار کر دیا ہے۔ اب اگر یہاں تم انبیاء کی بات مان کر اپنا رویہ درست کر و گے تو آخرت میں تمہیں خود اعتراف کرنا پڑے گا کہ جو سزا تم کو دی جارہی ہے فی الواقع تم اُس کے مستحق ہو۔

آیت ۱۲ سے ۱۴ تک یہ حقیقت ذہن نشین کرائی گئی ہے کہ خالق اپنی مخلوق سے بے خبر نہیں ہو سکتا۔ وہ تمہاری ہر کھلی اور چھپی بات، حتٰی کہ تمہارے دل کے خیالات تک سے واقف ہے۔ لہٰذااخلاق کی صحیح بنیاد ہے کہ انسان اُس اَن دیکھے خدا کی باز پرس سے ڈر کر برائی سے بچے، خواہ دنیا میں کوئی طاقت اُس پر گرفت کرنے والی ہو یا نہ ہو اور دنیا  میں اس سے کسی نقصان کا امکان ہو یا نہ ہو۔ یہ طرز عمل جو لوگ اختیار کریں گے وہی آخرت میں بخشش اور اجرِ عظیم کے مستحق ہونگے۔

آیت ۱۵ سے ۲۳ تک اُن پیش یا اُفتادہ حقیقتوں کی طرف جنہیں انسان دنیا کے معمولات سمجھ کر قابل توجہ شمار نہیں کرتا، پے در پے اشارے کر کے اُن پر سوچنے کی دعوت دی گئی ہے ۔ فرمایا گیا ہے کہ اس زمین کو دیکھو جس پر تم اطمینان سے چل پھر رہے ہو اور جس سے اپنا رزق حاصل کر رہے ہو۔ خدا ہی نے اسے تمہارے لیے تابع کر رکھا ہے ، ورنہ کسی وقت بھی اس زمین میں ایسا زلزلہ آسکتا ہے کہ تم پیوندِ خاک ہو جاؤ، یا ہوا کا ایسا طوفان آسکتا ہے جو تمہیں تہس نہس کر کے رکھ دے۔ اپنے اوپر اڑنے والے پرندوں کو دیکھو۔ خدا ہی تو ہے جو انہیں فضا مہیں تھامے ہوئے ہے۔ اپنے تمام ذرائع و وسائل پر نگاہ ڈال کر دیکھو۔ خدا اگر تمہیں عذاب میں مبتلا کرنا چاہے تو کون تمہیں اس سے بچا سکتا اورخدا اگر تمہارے لیے رزق کے دروازے بند کر دے تو کون انہیں کھول سکتا ہے ؟ یہ ساری چیزیں تمہیں حقیقت سے آگاہ کرنے کے لیے موجود ہیں۔ مگر انہیں تم حیوانات کی طرح دیکھتے ہو جو مشاہدات سے نتائج اخذ کر نے کی صلاحیت نہیں رکھتے، اور اس سماعت و بینائی اور ان سوچنے سمجھنے والے دماغوں  سے کام نہیں لیتے جو انسان ہونے کی حیثیت سے خدا نے تمہیں دیے ہیں ۔ اسی وجہ سے راہ راست تمہیں نظر نہیں آتی۔

آیت ۲۴ سے ۲۷ تک بتایا گیا ہے کہ آخر کار تمہیں لازماً اپنے خدا کے حضور حاضر ہونا ہے۔ نبی کا کام یہ نہیں ہے کہ تمہیں اُس کے آنے کا وقت اور تاریخ بتائے۔ اس کا کام بس یہ ہے کہ تمہیں اُس آنے والے وقت سے پیشگی خبردار کردے۔ تم آج اُس کی بات نہیں مانتے اور مطالبہ کرتے ہو کہ وقت لا کر تمہیں دکھا دیا جائے۔ مگر جب وہ آجائے گا اور تم آنکھوں سے اسے دیکھ لوگے تو تمہارے ہوش اُڑ جائیں گے۔ اس وقت تم سے کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ چیز جسے جلدی لے آنے کا تم مطالبہ کر رہے تھے۔

آیت ۲۸ اور ۲۹  میں کفار مکہ کی اُن باتوں کا جواب دیاگیا ہے جو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے ساتھیوں کے خلاف کرتے تھے۔ وہ حضورؐ کو کوستے تھے اور آپ کے لیے اور اہل ایمان کے لیے ہلاکت کی دعائیں مانگتے تھے۔ اس  پر فرمایا گیا  ہے کہ تمہیں راہ راست کی طرف بلانے والے خواہ ہلاک ہوں یا اللہ اُن پر رحم کرے ، اس سے آخر تمہاری قسمت کیسے بدل جائے گی؟ تم اپنی فکر کرو  کہ خدا کا عذاب اگر تم پر آجائے تو کون تمہیں بچائے گا؟ جو لوگ خدا پر ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے اُس پر توکل کیا ہے۔ انہیں تم گمراہ سمجھ رہے ہو۔ ایک وقت آئے گا جب یہ بات کھل جائے گی کہ حقیقت میں گمراہ کون تھا۔

          آخر میں لوگوں کے سامنے یہ سوال رکھ دیا گیا ہے اور اسی پر سوچنے کے لیے انہین چھوڑ دیا گیا ہے کہ عرب کے صحراؤں اور پہاڑی علاقوں میں ، جہاں تمہاری زندگی کا سارا انحصار اُس پانی پر ہے جو کسی جگہ زمین سے نکل آیا ہے، وہاں اگر یہ پانی زمین میں اتر کر غائب ہوجائے تو خدا کے سوا کون تمہیں یہ آبِ حیات لا کر دے سکتا ہے؟

Source: سید ابو اعلیٰ مودودیؒ - تفہیم القرآن