سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تذکیر القرآن المنافقون کی تفسیر، آیت 3

63:3
ذالك بانهم امنوا ثم كفروا فطبع على قلوبهم فهم لا يفقهون ٣
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ ءَامَنُوا۟ ثُمَّ كَفَرُوا۟ فَطُبِعَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ ٣
ذٰلِكَ
بِاَنَّهُمْ
اٰمَنُوْا
ثُمَّ
كَفَرُوْا
فَطُبِعَ
عَلٰی
قُلُوْبِهِمْ
فَهُمْ
لَا
یَفْقَهُوْنَ
۟
کیسی بُری حرکتیں ہیں جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ ان لوگوں نے ایمان لا کر پھر  کفر کیا اس لیے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی، اب یہ کچھ نہیں سمجھتے۔ 1
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 62:9 سے 63:3 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

یہ کسی آدمی کے نفاق کی علامت ہے کہ وہ بڑی بڑی باتیں کرے۔ اور قسم کھا کر اپنی بات کا یقین دلائے۔ مخلص آدمی اللہ کے خوف سے دبا ہوا ہوتا ہے۔ وہ زبان سے زیادہ دل سے بولتا ہے۔ منافق آدمی صرف انسان کو اپنی آواز سنانے کا مشتاق ہوتا ہے، اور مخلص آدمی خدا کو سنانے کا۔

جب ایک شخص ایمان لاتا ہے تو وہ ایک سنجیدہ عہد کرتا ہے۔ اس کے بعد زندگی کے عملی مواقع آتے ہیں، جہاں ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اس عہد کے مطابق عمل کرے۔ اب جو شخص ایسے مواقع پر اپنے دل کی آواز کو سن کر عہد کے تقاضے پورے کرے گا۔ اس نے اپنے عہد ایمان کو پختہ کیا۔ اس کے برعکس، جس کا یہ حال ہو کہ اس کے دل نے آوازدی مگر اس نے دل کی آواز کو نظر انداز کرکے عہد کے خلاف عمل کیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ دھیرے دھیرے اپنے عہد ایمان کے معاملہ میں بے حس ہوجائے گا— یہی مطلب ہے دل پر مہر کرنےكا۔