VERSES
14
PAGES
551-552

نام:

چوتھی آیت کے فقرے

یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِہٖ صَفّاً

سے ماخوذ ہے ۔ مراد یہ ہے کہ وہ سورۃ ہے جس میں لفظ صف آیا ہے ۔

زمانہ نزول:

کسی معتبر روایت سے اس کا زمانہ نزول معلوم نہیں ہو سکا۔ لیکن اس کے مضامین پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ غالباً جنگ احد کے متصل زمانے میں نازل ہوئی ہو گی، کیونکہ اس کے بین السطور میں جن حالات کی طرف اشارہ محسوس ہوتا ہے وہ اسی دور میں پائے جاتے تھے ۔

موضوع اور مضمون:

اس کا موضوع ہے مسلمانوں کو بھی مخاطب کیا گیا ہے ، اور ان لوگوں کو بھی جو ایمان کا جھوٹا دعویٰ کر کے اسلام میں داخل ہو گئے تھے ، اور ان کو بھی جو مخلص تھے ۔ بعض آیات کا خطاب پہلے دونوں گروہوں سے ہے ، بعض میں صرف منافقین مخاطب ہیں ، اور بعض کا روئے سخن صرف مخلصین کی طرف ہے ۔ انداز کلام سے خود معلوم ہو جاتا ہے کہ کہاں کون مخاطب ہے ۔ آغاز میں تمام ایمان لانے والوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں نہایت مبغوض ہیں وہ لوگ جو کہیں کچھ اور کریں کچھ، اور نہایت محبوب ہیں وہ لوگ جو راہ حق میں لڑنے کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ڈٹ کر کھڑے ہوں ۔ پھر آیت 5 سے 7 تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم  کی امت کے لوگوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اپنے رسول اور اپنے دین کے ساتھ تمہاری روش وہ نہ ہونی چاہیے جو موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بنی اسرائیل نے اختیار کی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بنی اسرائیل نے اختیار کی۔حضرت  موسیٰ کو وہ خدا کا رسول جاننے کے باوجود جیتے جی تنگ کرتے رہے ، اور حضرت عیسیٰ سے کھلی کھلی نشانیاں دیکھ لینے کے باوجود وہ ان کو جھٹلانے سے باز نہ آئے۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ اس قوم کے مزاج کا سانچہ ہے ٹیڑھا ہو کر رہ گیا اور اس سے ہدایت کی توفیق سلب ہو گئے۔ یہ کوئی ایسی قابل رشک حالت  نہیں ہے کہ کوئی دوسری قوم اس میں مبتلا ہونے کی تمنا کرے ۔ پھر آیت 8۔9 میں پوری ٹھدی کے ساتھ اعلان کیا گیا کہ یہود و نصاریٰ اور ان سے ساز باز رکھنے والے منافقین اللہ کے اس نور کو بجھانے کی چاہے کتنی ہی کوشش کر لیں ، یہ پوری آپ و تاب کے ساتھ دنیا میں پھیل کر رہے گا اور مشرکین کو خواہ کتنا ہی ناگوار ہو، رسول بر حق کا لایا ہوا دین ہر دوسرے دین پر غالب آ کر رہے گا۔ اس کے بعد آیات 10 سے 13 میں اہل ایمان کو بتایا گیا ہے کہ دنیا اور آخرت میں کامیابی کی راہ صرف ایک ہے ، اور وہ یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول پر سچے دل سے ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرو۔ آخرت  میں اس کا ثمرہ خدا کے عذاب سے نجات، گناہوں کی مغفرت، اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت کا حصول ہے ، اور دنیا میں اس کا انعام خدا کی تائید و نصرت اور فتح و ظفر ہے ۔ آخر میں اہل ایمان کو تلقین کی گئی ہے کہ جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں نے اللہ کی راہ میں ان کا ساتھ دیا تھا اس طرح وہ بھی ’’ انصار اللہ‘‘ بنیں تاکہ کافروں کے مقابلہ میں ان کو بھی اسی طرح اللہ کی تائیش حاصل ہو جس طرح پہلے ایمان لانے والوں کو حاصل ہوئی تھی۔

Source: سید ابو اعلیٰ مودودیؒ - تفہیم القرآن