VERSES
35
PAGES
502-506

نام:

آیت نمبر 21 کے فقرے اِذْاَنْذَ رَقَوْمَہٗ بِالْاَحْقَافِ  سے ماخوذ ہے۔

زمانۂ  نزول:

ایک تاریخی واقعہ سے متعین ہو جاتا ہے جس کا ذکر آیت 29۔32 میں آ یا ہے۔ ان آیات میں جِنوں کے آ نے اور قرآن سن کر واپس جانے کا جو واقعہ بیان ہوا ہے وہ حدیث وسیرت کی متفق علیہ روایت کی رو سے اس وقت پیش آیا تھا جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم طائف سے  مکہ معظمہ کی طرف پلٹتے ہوئے نَخْلہ کے مقام پر ٹھہرے  تھے، اور تمام معتبر تاریخی روایت کے مطابق آپ کے طائف تشریف لے جانے کا واقعہ ہجرت سے تین سال پہلے کا ہے، لہٰذا یہ متعین ہو جاتا ہے کہ یہ سورۃ 10نبوی کے آخر، یا 11نبوی میں نازل ہوئی۔

تاریخی منظر:

10 نبوی حضورؐ کی حیات طیبہ میں انتہائی سختی کا سال تھا۔ تین برس سے قریش کے تمام قبیلوں نے مل کر نبی ہاشم اور مسلمانوں کا مکمل مقاطعہ ر رکھا تھا اور حضور اپنے خاندان اور اپنے اصحاب کے ساتھ شعیب ابی طالب (شعب ابی طالب مکہ معظمہ کے ایک محلے کا نام تھا جس میں بنی ہاشم رہا کرتے تھے۔ شعب عربی زبان میں گھاٹی کو کہتے ہیں۔ چونکہ یہ محلہ کوہ اب قبیس کی گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں واقع تھا، اور ابو طالب نبی ہاشم کے سردار تھے، اس لیے اسے شعب ابی طالب کہا جاتا تھا۔ مکہ معظمہ میں جو مکان آج مقامی روایات کے مطابق نبی صلیی اللہ علیہ و سلم کے مقام پیدائش کی حیثیت سے معروف ہے،اسی کے قریب یہ گھاٹی واقع تھی۔ اب اسے شعب علی یا شعب بنی ہاشم کہتے ہیں۔)میں محور تھے۔ قریش کے لوگوں نے ہر طرف سے اس محلے کی ناکہ بندی کر رکھی تھی جس سے گزر کر کسی قسم کی رسد اندر نہ پہنچ سکتی تھی۔ صرف حج کے زمانے میں یہ محصورین نکل کر کچھ خریداری کر سکتے تھے۔ مگر ابو لہب جب بھی ان میں سے کسی کو بازار کی طرف، یا کسی تجارتی قافلے کی طرف جاتے دیکھتا، پکار کر تاجروں سے کہہ دیتا کہ جو چیز یہ خریدنا چاہیں اس کی قیمت اتنی زیادہ بتاؤ کہ یہ نہ خرید سکیں، پھر وہ چیز ہاشم کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی اور ان پر ایسے ایسے سخت وقت گزر گئے تھے جن میں بسا اوقات گھاس اور پتے کھانے کی نوبت آ جاتی تھی۔ خدا خدا کر کے یہ محاصرہ اس سال ٹوٹا ہی تھا کہ حضورؐ کے چچا ابو طالب، جو دس سال سے آپؐ کے لیے ڈھال بنے ہوئے تھے، وفات پا گئے، اور اس سانحے پر بمشکل ایک مہینہ گزرا تھا کہ آپ کی رفیقہ حیات حضرت خدیجہ بھی انتقال فرما گئیں جن کی ذات آغاز نبوت سے لے کر اس وقت تک آپ کے لیے وجہ سکون و تسلی بنی رہی تھی۔ ان پے درپے صدموں اور تکلیفوں کی وجہ سے حضورؐ اس سال کو عام الحزن (رنج و غم کا سال ) فرمایا کرتے تھے۔ حضرت خدیجہ اور ابوطالب کی وفات کے بعد کفار مکہ نبی صلی اللہ ولیہ و سلم کے مقابلے میں اور زیادہ دلیر ہو گئے۔ پہلے سے زیادہ آپ کو تنگ کرنے لگے۔ حتیٰ کہ آپ کا گھر سے باہر نکلنا بھی مشکل ہو گیا۔ اسی زمانہ کا یہ واقعہ ابن ہشام نے بیان کیا ہے کہ ایک روز قریم کے اوباشوں میں سے ایک شخص نے سر بازار آپ کے سر پر مٹی پھینک دی۔ آخر کار آپ اس ارادے سے طائف تشریف لے گئے کہ بنی ثَقیف کو اسلام کی طرف دعوت دین اور اگر وہ اسلام نہ قبول کریں تو انہیں کم از کم اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ آپ کو اپنے ہاں چین سے بیٹھ کر کام کرنے کا موقع دے دیں۔ آپ کو اس وقت کوئی سواری تک میسر نہ تھی۔ مکہ سے طائف تک کا سارا سفر آپ نے پیدل طے کیا۔ بعض روایات کی رو سے آپ تنہا تشریف لے گئے تھے، اور بعض روایات کے مطابق آپ کے ساتھ صرف حضرت زید بن حارثہ تھے۔ وہاں پہنچ کر چند روز آپؐ نے قیام کیا اور ثقیف کے سرداروں اور معززین میں سے ایک ایک کے پاس جا کر بات کی۔ مگر انہوں نے نہ صرف یہ کہ آپ کی کوئی بات نہ مانی، بلکہ آپ کو صاف صاف نوٹس دے دیا کہ ان کے شہر سے نکل جائیں، کیونکہ ان کو اندیشہ ہو گیا تھا کہ کہیں آپ کی تبلیغ ان کے نوجوانوں کو ’’ بگاڑ‘‘ نہ دے۔ مجبوراً آپ کو طائف چھوڑ دینا پڑا۔ جب آپ وہاں سے نکلنے لگے تو ثقیف کے سرداروں نے اپنے ہاں کے لفنگوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا۔ وہ راستے کے دونوں طرف دور تک آپ پر آوازے کستے، گالیاں دیتے اور پتھر مارتے چلے گئے، یہاں تک کہ آپ زخموں سے چور ہو گئے اور آپ کی جوتیاں خون سے بھر گئیں۔ اس حالت میں آپ طائف کے باہر ایک باغ کی دیوار سے سائے میں بیٹھ گئے اور اپنے رب سے عرض کیا: ’’خداوندا، میں تیرے ہی حضور اپنی بے بسی و بے چارگی اور لوگوں کی نگاہ میں اپنی بے قدری کا شکوہ کرتا ہوں۔ اے ارحم الراحمین، تو سارے ہی کمزوروں کا رب ہے اور میرا رب بھی تو ہی ہے۔ مجھے کس کے حوالے کر رہا ہے؟ کیا کسی بیگانے کے حوالے جو مجھ سے درشتی کے ساتھ پیش آئے؟ یا کسی دشمن کے حوالے جو مجھ پر قابو پالے؟ اگر تو مجھ سے ناراض نہیں ہے تو مجھ کسی مصیبت کی پروا نہیں، مگر تیری طرف سے عافیت مجھے نصیب ہو جائے تو اس میں میرے لیے زیادہ کشادگی ہے۔ میں پناہ مانگتا ہوں تیری ذات کے اس نور کی جو اندھیرے میں اجالا اور دنیا اور آخرت کے معاملات کو درست کرتا ہے، مجھے اس سے بچا لے کہ تیرا غضب مجھ پر نازل ہو یا میں تیرے عتاب کا مستحق ہو جاؤں۔تیری مرضی پر راضی ہوں یہاں تک کہ تو مجھ سے راضی ہو جائے۔ کوئی زور اور طاقت تیرے بغیر نہیں‘‘ (ابن ہشام، ج 2،ص 62) دل شکستہ و غمگین پلٹ کر جب آپ قرن المنازل کے قریب پہنچے تو محسوس ہوا کہ آسمان پر ایک بادل سا چھایا ہوا ہے۔ نظر اٹھا کر دیکھا تو جبریل علیہ السلام سامنے تھے۔ انہیں نے پکار کر کہا ’’ آپ کی قوم نے جو کچھ آپ کو جواب دیا ہے اللہ نے اسے سن لیا۔ اب یہ پہاڑوں کا منتظم فرشتہ اللہ نے بھیجا ہے، آپ جو حکم دینا چاہیں اسے دے سکتے ہیں‘‘۔ پھر پہاڑوں کے فرشتے نے آپ کو سلام کر کے عرض کیا ’’آپ فرمائیں تو دونوں طرف کے پہاڑ ان لوگوں پر الٹ دوں؟‘‘ آپ نے جواب دیا،’’ نہیں، بلکہ میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ ان کی نسل سے وہ لوگ پیدا کرے گا جو اللہ وحدہٗ  لاشریک کی بندگی کریں گے‘‘۔ (بخاری، بدء الخلق، ذکر الملائکہ۔۔ مسلم،کتاب المغازی۔ نسائی، البعوث) اس کے بعد آپ چند روز نخلہ کے مقام پر جا کر ٹھیر گئے۔ پریشان تھے کہ اب کیسے مکہ واپس جاؤں۔ طائف میں جو کچھ گزری ہے اس کی خبریں وہاں  پہنچ چکی ہوں گی۔اس کے بعد تو کفار پہلے سے بھی زیادہ دلیر ہو جائیں گے۔ ان ہی ایام میں ایک روز رات کو آپ نماز میں قرآن مجید کی تلاوت فرما رہے تھے کہ جِنوں کے ایک گروہ کا ادھر سے گزر ہوا، انہوں نے قرآن سُنا،ایمان لائے، واپس جا کر اپنی قوم میں اسلام کی تبلیغ شروع کر دی، اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو یہ خوش خبری سنائی انسان چاہے  آپ کی دعوت سے بھاگ رہے ہوں، مگر بہت سے جِن اس کے گرویدہ ہو گئے ہیں  اور وہ اسے اپنی جنس میں پھیلا رہے ہیں۔

موضوع اور مباحث:

یہ حالات تھے جن میں یہ سورت نازل ہوئی۔ جو شخص بھی ایک طرف ان حالات نزول کو دیکھے گا اور  دوسری طرف اس سورۃ کو بغور پڑھے گا اسے اس امر میں کوئی شبہ نہ رہے گا کہ فی الواقع یہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا کلام نہیں ہے بلکہ ’’ اِس کا نزول اللہ زبردست اور دانا کی طرف سے ہے۔’’ اس لیے کہ اول سے آخر تک پوری سورۃ میں کہیں ان انسانی جذبات و تأثرات کا ایک ادنیٰ شائبہ تک نہیں پایا جاتا جو ان حالات سے گزرنے والے انسان کے اندر فطری طور پر پیدا ہوتے ہیں۔ اگر یہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا کلام ہوتا، جنہیں پے در پے صدمات اور مصائب کے بے پناہ ہجوم اور طائف کے تازہ ترین چرکے نے خستہ حالی کی انتہا کو پہنچا دیا تھا، تو اس سورے میں کہیں تو ان کیفیات کا عکس نظر آتا جو اس وقت آپ کے دل پر گزر رہی تھیں۔اوپر ہم نے حضورؐ کی دعا نقل کی ہے، اسے دیکھیے۔ وہ آپ کا اپنا کلام ہے۔ اس کا لفظ لفظ ان کیفیات سے لبریز ہے۔ مگر یہ سورۃ جو اسی زمانے اور ان ہی حالات میں آپ ہی کی زبان مبارک سے ادا ہوئی ہے ان کے ہر اثر سے قطعی خالی ہے۔

سورۃ کا موضوع کفار کو ان گمراہیوں کے نتائج سے خبردار کرنا ہے جن میں وہ نہ صرف مبتلا تھے، بلکہ بڑے اصرار اور غرور و استکبار کے ساتھ ان پر جمے ہوئے تھے اور الٹا اس شخص کو ہدف ملامت بنا رہے  تھے  جو انہیں ان گمراہیوں سے نکالنے کے لیے کوشاں تھا۔ ان کے نزدیک دنیا کی حیثیت محض ایک بے مقصد کھلونے کی تھی اور اس کے اندر اپنے آپ کو وہ غیر جواب دہ مخلوق سمجھ رہے تھے۔ توحید کی دعوت ان کے خیال میں باطل تھی اور انہیں اصرار تھا کہ ان کے معبود واقعی خدا کے شریک ہیں۔ وہ قرآن کے متعلق یہ ماننے کو تیار نہ تھے کہ یہ خداوند عالم کا کلام ہے۔ رسالت کا ایک عجیب جاہلانہ تصور ان کے ذہن میں تھا اور اس کی بنا پر محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے دعوائے رسالت کو جانچنے  کے لیے وہ طرح طرح کے نرالے معیار تجویز کر رہے تھے۔ان کے نزدیک اسلام کے بر حق نہ ہونے کا ایک بڑا ثبوت یہ تھا کہ ان کے شیوخ اور بڑے بڑے قبائلی سردار اور ان کی قوم کے بوجھ بجھکڑ اسے نہیں مان رہے ہیں،اور صرف چند نوجوان، چند غریب لوگ اور چند غلام ہی اس پر ایمان لائے ہیں۔ وہ قیامت، اور زندگی بعد موت، اور جزا و سزا کی باتوں کو ایک من گھڑت افسانہ سمجھتے تھے، اس ان کا خیال تھا کہ ان چیزوں کا وقوع خارج از امکان ہے۔

اس سورۃ میں بالاختصار ان ہی گمراہیوں میں سے ایک ایک کی مدلل تردید کی گئی ہے اور کفار کو خبردار کیا گیا ہے کہ تم اگر عقل و دلیل سے حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرنے کے بجائے تعصب اور ہٹ دھرمی سے کام لے کر قرآن کی دعوت اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت کو رد کر دو گے تو آپ اپنا ہی انجام خراب کرو گے۔

Source: سید ابو اعلیٰ مودودیؒ - تفہیم القرآن