VERSES
54
PAGES
428-434

نام:

آیت 15 کے فقرے

لقد کان لسبا فی مسکنھم آیۃ

سے ماخوذ ہے۔ مراد یہ ہے کہ وہ سورہ جس میں سبا کا ذکر آیا ہے۔

زمانۂ نزول :

اس کے نزول کا ٹھیک زمانہ کسی معتبر روایت سے معلوم نہیں ہوتا۔ البتہ انداز بیان سے محسوس ہوتا ہے کہ یا تو مکہ کا دورِ متوسط ہے یا دور اول۔ اور اگر دورِ متوسط ہے تو غالباً اس کا ابتدائی زمانہ ہے جبکہ ظلم و ستم کی شدت شروع نہ ہوئی تھی اور ابھی صرف تضحیک استہزاء، افواہی جنگ، جھوٹے الزامات اور وسوسہ اندازیوں سے اسلام کی تحریک کو دبانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

موضوع اور مضمون:

اس سورۂ میں کفار کے ان اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے جو وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دعوت ِ توحید و آخرت پر اور خود آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نبوت پر زیادہ تر طنز و تمسخر اور بیہودہ الزامات کی شکل میں پیش کرتے تھے۔ ان اعتراضات کا جواب کہیں تو ان کو  نقل کر کے  دیا گیا ہے، اور کہیں  تقریر سے خود یہ ظاہر ہو جاتا ہے کہ یہ کس اعتراض کا جواب ہے۔ جوابات اکثر و بیشتر تفہیم و تذکیر اور استدلال کے انداز  میں ہیں، لیکن کہیں کفار کو ان کی ہٹ دھرمی کے بُرے  انجام سے ڈرایا بھی گیا ہے۔ اسی سلسلہ میں حضرت داؤدؑو سلیمانؑ اور قومِ سبا کے قصے اس غرض کے لیے بیان کیے گئے ہیں کہ تمہارے سامنے تاریخ کی یہ دونوں مثالیں موجود ہیں۔ ایک طرف حضرت داؤدؑ اور سلیمانؑ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بڑی طاقتیں بخشیں اور وہ شوکت و حشمت عطا کی جو پہلے کم ہی کسی کو ملی ہے، مگر یہ سب کچھ پاکر وہ کبر و غرور میں مبتلا نہ ہوئے بلکہ اپنے رب کے خلاف بغاوت کرنے کے بجائے اس کے شکر گذار بندے ہی بنے رہے۔ اور دوسری طرف سبا کی قوم ہے جسے اللہ نے جب اپنی نعمتوں سے نوازا تو وہ پھول گئی اور آخر کار اس طرح پارہ پارہ ہوئی کہ اس کے بس افسانے  ہی اب دنیا میں باقی رہ گئے ہیں۔ ان دونوں  مثالوں  کو سامنے رکھ کر خود رائے قائم کر لو کہ توحید و آخرت کے یقین اور شکر نعمت کے جذبے سے جو زندگی بنتی ہے وہ زیادہ بہتر یا وہ زندگی جو کفر و شرک اور انکارِ آخرت اور دنیا پرستی  کی بنیاد پر بنتی ہے۔

Source: سید ابو اعلیٰ مودودیؒ - تفہیم القرآن