VERSES
88
PAGES
385-396

نام :

آیت نمبر ۲۵ کے اس فقرے سے ماخوذ ہے 

: وَ قَصَّ عَلیہ القَصَص

َ، یعنی وہ سورة جس میں القصص کا لفظ آیا ہے ۔ لغت کے اعتبار سے قصص کے معنی ترتیب وار واقعات بیان کرنے کے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ لفظ باعتبار معنی بھی اس سورة کا عنوان ہو سکتاہے ، کیونکہ اس میں حضرت موسیٰ کا مفصل قصہ بیان ہوا ہے۔

زمانہٴ نزول :

  سورة نمل کے دیباچے میں ابن عباس اور جابر بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا یہ قول ہم نقل کر چکے ہیں کہ سورة شعراء ، سورة النمل اور سورة القصص یکے بعد دیگرے نازل ہوئیں ہیں ۔ زبان، اندازبیان اور مضامین سے بھی یہی محسوس ہوتا ہے کہ ان تینوں سورتوں کا زمانہٴنزول قریب قریب ایک ہی ہے۔ اوراس لحاظ سے بھی ان تینوں میں قریبی تعلق ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قصے کے مختلف اجزاء جو ان میں بیان کے گئے ہیں وہ باہم مل کر ایک پورا قصہ بن جاتے ہیں ۔ سورة شعراءمیں نبوت کا منصب قبول کرنے سے معذرت کرتے ہوئے حضرت موسیٰ عرض کرتےہیں کہ

قوم فرعون کا ایک جرم میرے ذمہ ہے جس کی وجہ سے میں ڈرتا ہوں کہ وہاں جاوٴں گا تو  وہ مجھے قتل کر دیں گے

پھر جب حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کے ہاں تشریف لے جاتے ہیں تو وہ کہتا ہے

کیا ہم نے اپنے ہاں تجھے بچہ سا نہیں پالا تھا ، اور تو ہمارے ہاں چند سال رہا پھر کر گیا وہ کچھ جو کچھ کہ کرگیا۔

ان دونوں باتوں کی کوئی تفصیل وہاں نہیں بیان کی گئی ۔ اس سورة میں اسے بتفصیل بیان کیا گیا ہے ۔ اسی طرح سورة نمل میں قصہ یکایک اس بات سے شروع ہوگیا کہ حضرت موسیٰ اپنے اہل و عیال کولے کر جارہے تھے، اور اچانک انھوں نے ایک آگ دیکھی ، وہاں اس کی کوئی تفصیل نہیں ملتی کہ یہ کیسا سفر تھا ، کہاں سے وہ آرہے تھے اور کدھر جارہے تھے۔ یہ تفصیل اس سورة میں بیان ہوئی ہے ۔ اس طرح یہ تینوں سورتیں مل کر قصہ موسیٰ علیہ السلام کی تکمیل کر دیتی ہیں۔

موضوع اور مباحث :

  اس کا موضوع ان شبہات اور اعتراضات کو رفع کرنا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر وارد کیے جا رہے تھے، اور ان عذرات کو قطع کرنا ہے جو آپ پر ایمان نہ لانے کے لئے پیش کیے جاتے تھے۔

اس غرض کے لئے سب سے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قصہ بیان کیا گیا ہے جو زمانہٴنزول کے حالات سے مل کر خود بخود چند حقیقتیں سامع کے ذہن نشین کردیتاہے

:

          اول یہ کہ اللہ تعالیٰ جو کچھ کرنا چاہتا ہے ، اس کے لئے وہ غیر محسوس طریقے سے اسباب وذرائع فراہم کر دیتا ہے۔ جس بچے کے  ہاتھوں آخر کار فرعون کا تختہ الٹنا تھا، اسے اللہ نے خود فرعون ہی کے گھر میں اس کے اپنے ہاتھوں پرورش کرادیا اور فرعون یہ نہ جان سکا کہ وہ کسے پرورش کر رہاہے۔ اس خدا کی مشیت سے کون لڑ سکتا ہے اور کس کی چالیں اس کے مقابلے میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔

          دوسرے یہ کہ نبوت کسی شخص کو کسی بڑے جشن اور زمین  اور آسمان سے کسی بھاری اعلان کے ساتھ نہیں دی جاتی۔ تم کو حیرت ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کو چپکے سے یہ نبوت کہاں سے مل گئی اور بیٹھے بٹھائے یہ نبی کیسے بن  گئے۔ مگر جن موسیٰ (علیہ السلام )کا تم خود حوالہ دیتے ہو  لَو لَا اُدتِیَ مِثلَ ماَ اُو تِیَ مُو سیٰ، (آیت ۴۸)،انہیں بھی اسی طرح راہ چلتے نبوت مل گئی تھی اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوئی تھی کہ آج طور سینا کی سنسان وادی میں کیا واقعہ پیش آگیا۔ موسیٰ علیہ السلام خود ایک لمحے پہلے تک نہ جانتے تھے کہ انھیں کیا چیز ملنے والی ہے۔ آگ لینے چلے تھے اور پیمبری مل گئی۔

          تیسرے یہ کہ جس بندے سے خدا کوئی کام لینا چاہتا ہے وہ بغیر کسی لاوٴ لشکر اور سرو سامان کے اٹھتا ہے ۔کوئی اس کا مدد گار نہیں ہوتا، کوئی طاقت بظاہر اس کے پاس نہیں ہوتی، مگر بڑے بڑے  لاوٴلشکر اور سروسامان والے آخر کار اس کے مقابلے میں دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں ۔ جو نسبت آج تم اپنے اور محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کے درمیان پا رہے ہو اس سے بہت زیادہ فرق موسیٰ (علیہ السلام)اور فرعون کی طاقت کے درمیان تھا۔ مگر دیکھ لو کون جیتا  اور کون ہارا۔

          چوتھے یہ کہ تم لوگ بار بار موسیٰ علیہ السلام کا حوالہ دیتے ہو کہ

محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کو وہ کچھ کیوں نہ دیا گیا جو موسیٰ علیہ السلام کی دیا گیا تھا

یعنی عصا اور ید بیضا اور دوسرے کھلے کھلے  معجزے ۔ گو یا تم ایمان لانے کو تو تیار بیٹھے ہو ، بس انتظار ہے تو یہ کہ تمہیں وہ معجزے دکھائے جائیں جو موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو دکھائے تھے۔مگر تمہیں کچھ معلوم بھی ہے کہ جن لوگوں کو وہ معجزے دکھائے گئے تھے انھوں نے کیا کیا تھا؟ وہ انہیں دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے ۔ انہوں نے کہا تو یہ کہا کہ یہ جادو ہے۔کیونکہ وہ حق کے خلاف ہٹ دھرمی اور عناد میں مبتلا تھے۔ اسی مرض میں آج تم مبتلا ہو ۔ کیا تم اسی طرح کے معجزے دیکھ کر ایمان لے آوٴ گے؟ پھر تمہیں کچھ یہ بھی خبر ہے کہ جن لوگوں نے وہ معجزے دیکھ کر حق کا انکار کیاتھا ان کا انجام کیا ہوا؟ آخر کار اللہ نے انہیں تباہ کرکے چھوڑا۔ اب کیا تم بھی ہٹ دھرمی کے ساتھ معجزے مانگ کر اپنی شامت بلانا چاہتے ہو؟

یہ وہ باتیں ہیں جو کسی تصریح کے بغیر آپ سے آپ ہر اس شخص کے ذہن میں اتر جاتی ہیں جو مکے کے کافرانہ ماحول میں اس قصے کو سنتا تھا، کیونکہ اس وقت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور کفار مکہ کے درمیان ویسی ہی ایک کشمکش برپا تھی جیسی اس سے پہلے فرعون اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان برپا ہوچکی تھی، اور ان حالات میں یہ قصہ سنانے کے معنی یہ تھے کہ اس  کا ہر جز وقت کے حالات پر خود بخود چسپاں ہوتا چلا جائے، خواہ ایک لفظ بھی ایسا نہ کہا جائے جس سے معلوم ہو کہ قصے کا کون سا جز اس وقت کے کس معاملے پر چسپاں ہورہا ہے۔

اس کے بعد پانچویں رکوع سے اصل موضوع پر براہ راست کلام شروع ہوتا ہے۔

پہلے اس بات کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ایک ثبوت قرار دیا جاتاہے کہ آپ امی ہونے کے باوجود دوہزار برس پہلے گزرا ہوا ایک تاریخی واقعہ اس تفصیل کے ساتھ من و عن سنا رہے ہیں ۔ حالانکہ آپ کے شہر اور آپ کے برادری کے لوگ خوب جانتے تھے کہ آپ کے پاس ان معلومات کے حاصل ہونے کا کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہے جس کی وہ نشاندہی کر سکیں۔

پھر آپ کے نبی بنائے جانے کو ان لوگوں کے حق میں اللہ کی ایک رحمت قرار دیا جاتا ہے کہ وہ غفلت میں پڑے ہوئے تھے اور اللہ نے ان کے لئے ہدایت کا انتظام کیا۔

پھر ان کے اس اعتراض کا جواب دیا جاتا ہے جو وہ بار بار پیش کرتے تھے کہ

یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  وہ معجزے کیوں نہ لایا جو اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام لائے تھے۔

ان سے کہاجاتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام ، جن کے متعلق تم خود مان رہے ہو کہ وہ خدا کی طرف سے معجزے لائے تھے، انہی کو تم نے کب مانا ہے کہ اب اس نبی (صلی اللہ علیہ وسلم)سے معجزے  کا مطالبہ کرتے ہو؟ خواہشات نفس کی بندگی نہ کروتو حق اب بھی تمہیں نظر آسکتا ہے۔ لیکن اگر اس مرض میں تم مبتلا رہو تو خواہ  کوئی معجزہ آجائے، تمہاری آنکھیں نہیں کھل سکتیں۔

پھر کفار مکہ کو اس واقعہ پر عبرت اور شرم دلائی گئی جو اسی زمانے میں پیش آیا تھا کہ باہر سے کچھ عیسائی مکہ آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن  سن کر ایمان لے آئے، مگر مکہ کے لوگ اپنے گھر کی اس نعمت سے مستفید تو کیا ہوتے، ان  کے ابو جہل نے الٹی ان لوگوں کی کھلم کھلا بے عزتی کی۔

آخر میں  کفار مکہ کے اس اصل  عذر کی لیا جاتا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ ماننے کے لئے وہ پیش کرتے تھے۔ ان کا کہنا  یہ تھا کہ اگر ہم اہل عرب دین شرک کو چھوڑ کر اس نئے دین توحید کو قبول کرلیں تو یکا یک اس ملک سے ہماری مذہبی، سیاسی اور معاشی چودھراہٹ ختم ہوجائے گی اور ہمارا حال یہ ہوگا کہ عرب کے سب سے زیادہ با اثر قبیلے کی حیثیت کھو کر اس سر زمین میں ہمارے لئے کوئی جائے پناہ تک باقی نہ رہے گی۔ یہ چونکہ سرداران قریش کی حق دشمنی کا اصل محرک تھا اور باقی سارے شبہات و اعتراضات محض بہانے تھے جو وہ عوام کو فریب دینے کے لئے تراشتے تھے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس پر آخری سورة تک مفصل کلام فرمایا ہے اور اس کے ایک ایک پہلو پر روشنی ڈال کر نہایت حکیمانہ طریقے سے ان تمام بنیادی امراض کا مداوا کیا ہے جن کی وجہ سے یہ لوگ حق اور باطل کا فیصلہ دنیوی مفاد کے نقطہٴ نظر سے کرتے تھے۔

Source: سید ابو اعلیٰ مودودیؒ - تفہیم القرآن