سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تذکیر القرآن تفسیر: النمل آیہ 24

27:24
وجدتها وقومها يسجدون للشمس من دون الله وزين لهم الشيطان اعمالهم فصدهم عن السبيل فهم لا يهتدون ٢٤
وَجَدتُّهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُونَ لِلشَّمْسِ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيْطَـٰنُ أَعْمَـٰلَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ ٱلسَّبِيلِ فَهُمْ لَا يَهْتَدُونَ ٢٤
وَجَدْتُّهَا
وَقَوْمَهَا
یَسْجُدُوْنَ
لِلشَّمْسِ
مِنْ
دُوْنِ
اللّٰهِ
وَزَیَّنَ
لَهُمُ
الشَّیْطٰنُ
اَعْمَالَهُمْ
فَصَدَّهُمْ
عَنِ
السَّبِیْلِ
فَهُمْ
لَا
یَهْتَدُوْنَ
۟ۙ
اور میں نے دیکھا اس کو اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو اللہ کو چھوڑ کر اور شیطان نے ان کے لیے ان کے اعمال کوّ مزین کردیا ہے اور انہیں روک دیا ہے سیدھے راستے سے تو اب وہ راستہ نہیں پا رہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 27:20 سے 27:26 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

سبا (Sabaeans) قدیم زمانہ کی ایک دولت مند قوم تھی۔ اس کا زمانہ 1100 ق م سے لے کر 115 ق م تک ہے۔ اس کا مرکز مارب (یمن) تھا۔ اس علاقہ میں آج بھی اس کے شاندار کھنڈر پائے جاتے ہیں۔حضرت سلیمان کے زمانہ میں یہاں ایک عورت (بلقیس) کی حکومت تھی۔ یہ لوگ سورج کی پرستش کرتے تھے۔ شیطان نے انھیں سکھایا کہ معبود وہی ہوسکتاہے جو سب سے زیادہ نمایاں ہو۔ سورج چوں کہ تمام دکھائی دینے والی چیزوں میں سب سے زیادہ نمایاں ہے اس ليے وہی اس قابل ہے کہ اس کو معبود سمجھا جائے اور اس کی پرستش کی جائے۔

ہدہد کے ذریعہ حضرت سلیمان کو قوم سبا کے بارے میں مفصل معلومات حاصل ہوئیں۔ یہ ہدہد غالباً آپ کی پرندوں کی فوج سے تعلق رکھتا تھا اور باقاعدہ تربیت یافتہ تھا۔