VERSES
93
PAGES
377-385

نام :

دوسرے رکوع کی جوتھی آیت میں

 وَادِالنَّملِ

کا ذکر آیاہے۔سورةکا نام اسی سےماخوذ ہے۔ یعنی وہ سورة جس میں النمل کا ذکر آیا ہے۔ یا جس میں النمل کا لفظ وارد ہوا ہے۔

زمانہٴ نزول :

مضمون اور انداز بیان   مکہ کے دور متوسط کی سورتوں سے پوری مشابہت رکھتا ہے۔ اور اس کی تائید روایات  سے بھی ہوتی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور جابر بن زید کا بیان ہے کہ

پہلے سورہٴ شعراء نازل ہوئی، پھر النمل ، پھر القصص۔

موضوع اور مباحث :

یہ سورة دو خطبوں پر مشتمل ہے۔ پہلا خطبہ آغاز سورة سے چوتھے رکوع کے خاتمے تک ہے۔ اور دوسرا خطبہ پانچوں رکوع کی ابتدا سے سورة کے اختتام تک۔

پہلے خطبے میں بتایا گیا ہے کہ قرآن کے رہنمائی سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں ، اور اس کی بشارتوں کے مستحق بھی وہی صرف وہی لوگ ہیں جو ان حقیقتوں کو تسلیم کریں جنہیں یہ کتاب اس کائنات کی بنیادی حقیقتوں کی حیثیت سے پیش کرتی ہے۔ اور پھر مان لینے کے  بعد اپنی عملی زندگی میں بھی اطاعت و اتباع کا رویہ اختیار کریں۔ لیکن اس راہ پر آنے اور چلنے میں جو چیز سب سے بڑھ کر مانع ہوتی ہے ہو انکار آخرت ہے۔کیونکہ یہ آدمی کو غیر ذمہ دار بندہ نفس اور فریفتہ حیات دنیا بنادیتا ہے۔ جس کے بعد آدمی کا خدا کے آگے جھکنا اور اپنے نفس کے خواہشات پر اخلاقی پابندیاں برداشت کرنا ممکن نہیں رہتا۔ اس تمہید کے بعد تین قسم کی سیرتوں کے نمونے پیش کیے گئے ہیں۔

          ایک نمونہ فرعون اور سرداران قوم ثمود اور سرکشان قوم لوط کا ہے جن کی سیرت فکر آخرت سے بے نیازی اور نتیجتًہ نفس کی بندگی سے تعمیر ہوئی تھی ۔ یہ لوگ کسی نشانی کو دیکھ کر بھی ایمان لانے کو تیار نہ ہوئے ۔ یہ الٹے ان لوگوں کے دشمن ہو گئے جنہوں نے ان کو خیر و صلاح کی طرف بلایا۔ انہوں نے اپنے ان بدکاریوں پربھی پورا اصرار کیا جن کا گھناونا پن کسی صاحب عقل سے بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ انہیں عذاب الٰہی میں گرفتار ہونے سے ایک لمحہ پہلے تک بھی ہوش نہ آیا۔

          دوسرا نمونہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا ہے جن کو خدانے دولت، حکومت، اور شوکت و حشمت سے اس پیمانے پر نوازا تھا کہ کفار مکہ کے سردار اس کا خواب بھی نہ دیکھ سکتے تھے۔لیکن اس کے باوجود چونکہ وہ اپنے آپ کو خدا کے آگے جوابدہ سمجھتے تھے، اور انہیں احساس تھا کہ انہیں جو کچھ بھی حاصل ہے خدا کی عطا سے حاصل ہے ، اس لئے ان کا سر ہر وقت منعم حقیقی کے آگے جھکا رہتا تھا اور کبر نفس کا کوئی شائبہ تک ان کی سیرت و کردار میں نہ پایا جاتا تھا۔

          تیسرا نمونہ ملکہ سبا کا ہے جو تاریخ عرب کی نہایت مشہور دولت مند قوم پر حکمران تھی۔ اس کے پاس وہ تمام اسباب جمع تھے جو کسی انسان کو غرورنفس میں مبتلا کر سکتے ہیں جن چیزوں کے بل پر کوئی انسان گھمنڈ کر سکتا ہے وہ سرداران قریش کی بہ نسبت لاکھوں درجہ زیادہ اسے حاصل تھیں۔ پھر وہ ایک مشرک قوم سے تعلق رکھتی تھی۔ تقلید آبائی کی بنا پر بھی، اور اپنی قوم میں اپنی سرداری برقرار کھنے کی خاطر بھی، اس کے لئے دین شرک کو چھوڑ کر دین توحید اختیار کرنا اس سے بہت زیادہ مشکل تھا جتنا کسی عام مشرک کے لئے ہو سکتا ہے لیکن جب اس پر حق واضح ہوگیا تو کوئی چیز اسے قبول حق سے نہ روک سکی ، کیونکہ اس کے گمراہی محض ایک مشرک ماحول میں آنکھ کھولنے کی وجہ سے تھی۔ نفس کی بندگی اور خواہشات کی غلامی کا مرض اس پر مسلط نہ تھا۔ خدا کے حضور جواب دہی کا احساس سے اس کا ضمیر فارغ نہیں تھا۔

دوسرے خطبے میں سب سے پہلے کائنات کے چند نمایاں ترین مشہود حقائق کی طرف اشارہ کر کے کفار مکہ سے پے در پے سوال کیا گیا ہے کہ بتاوٴ ، یہ حقائق اس شرک کی شہادت دے رہے ہیں جس میں تم مبتلا ہو،  یا اس توحید پر گواہ ہیں جس کی دعوت اس قرآن میں تمہیں دی جارہی ہے ؟ اس کے بعد کفار کے اصل مرض پر انگلی رکھ دی گئی ہے کہ جس چیز نے ان کو اندھا بنا رکھا ہے، جس کی وجہ سے وہ سب کچھ دیکھ کر بھی کچھ نہیں دیکھتے اور سب کچھ سن کر بھی کچھ نہیں سنتے وہ در اصل آخرت کا انکار ہے ۔ اسی چیز نے ان کے لئے زندگی کے کسی مسئلے میں بھی کوئی سنجیدگی باقی نہیں چھوڑی ہے ۔ کیونکہ جب ان کے نزدیک آخر کار سب کچھ مٹی ہوجاناہے،اور حیات دنیا کی اس ساری تگ و دو کا حاصل کچھ بھی نہیں ہے، تو آدمی کے لئے پھر حق  اور باطل سب یکساں ہیں۔اس کے لئے اس سوال میں سرے سے کوئی اہمیت ہی نہیں رہتی کہ اس کا نظام حیات راستی پر قائم ہے یا ناراستی پر۔

لیکن اس بحث سے مقصود یاس نہیں ہے کہ جب یہ لوگ غفلت میں مگن ہیں تو انہیں دعوت دینا بے کار ہے ۔ بلکہ دراصل اس سے مقصود سونے والوں کو جھنجوڑ کر جگانا ہے۔اس لئے چھٹے اور ساتویں رکوع میں پے در پے وہ باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں جو لوگوں میں آخرت کا احساس بیدار کریں اس سے غفلت برتنے کے نتائج پر متنبہ کریں، اور انہیں اس کی آمد کا اس طرح یقین دلائیں جس طرح ایک آدمی اپنی آنکھوں دیکھی بات کا اس شخص کو یقین دلاتا ہے جس نے اسے نہیں دیکھا ہے۔

خاتمہ کلام میں قرآن کی اصل دعوت ، یعنی خدائے واحد کی بندگی کی دعوت نہایت مختصر، مگر انتہائی موٴثر انداز میں پیش کر کے لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اسے قبول کرنا تمہارے اپنے لئے نافع اور اسے رد کرنا تمہارے اپنے لئے ہی نقصان دہ ہے ۔ اسے ماننے کے لئے اگر خدا کی وہ نشانیاں دیکھنے کا انتظار کرو گے جن کے سامنے آجانے کے بعد مانے بغیر چارہ نہ رہے گا۔ تو یاد رکھو کہ وہ فیصلے کا وقت ہوگا۔ اس وقت ماننے سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔

Source: سید ابو اعلیٰ مودودیؒ - تفہیم القرآن