VERSES
98
PAGES
305-312

نام:

   اس سورت کا نام آیت 

واذ کر فی الکتب مریم

سے ماخوذ ہے ۔ مراد یہ ہے کہ وہ سورہ جس میں حضرت مریم کا ذکر آیا ہے۔

زمانہ نزول:

   اس کا زمانہ نزول ہجرت حبشہ سے  پہلے کا ہے ۔ معتبر روایات سے معلوم ہو تا ہے کہ مہاجرین اسلام جب نجاشی کے دربار میں بلائے گئے تھے اس وقت حضرت جعفر نے یہی سورہ بھرے دربار میں تلاوت کی بھی۔

تاریخی پس منظر : جس دور میں یہ سورہ نازل ہوئی اس کے حالات کی طرف ہم کسی حد تک سورہ کہف کے دیباچے میں اشارہ کر چکے ہیں لیکن وہ مختصر اشارہ اس سورے کو اور  دور کی دوسری سورتوں کو سمجھنے کے لئے کافی نہیں ہے ۔ اس لئے ہم ذرا اس وقت کے حالات زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں ۔ قریش کے  سردار جب تضحیک ، استہزاء اطماع تخویف اور جھوٹے الزامات کی تشہیر  سے تحریک اسلامی کو دبانے میں ناکام ہو گئے تو انہوں نے ظلم و ستم ، مار پیٹ اور معاشی دباؤ کے ہتھیار استعمال کرنے شروع کی ے ۔ ہر قبیلے کے لوگوں نے اپنے اپنے قبیلے کے نو مسلموں کو تنگ پکڑا اور طرح طرح سے ستا کر ، قید کر کے بھوک پیاس کی تکلیفیں دے کر ، حتی کہ سخت جسمانی اذیتیں دے دے کر انہیں اسلام چھوڑ نے پر مجبور کرنے کی کوشش کی ۔ اس سلسلے میں خصوصیت کے ساتھ غریب لوگ اور وہ غلام اور سوالی جو قریش والوں کے تحت زیر دست کی حیثیت سے رہتے تھے ، بری طرح پیسے گئے ۔ مثلاً بلال ، عامر بن مہر ، ام عبیس ، زبیرہ ، عمار بن یاسر اور ان کے والدین وغیرہ ہم ، ان لوگوں کو مار مار کر ادھ موا کر دیا جاتا ، بھوکا پیاسا بند رکھا جاتا ، مکے کی تپتی ہوئی ریت چلچلاتی دھوپ میں لٹا دیا جاتا اور سینے پر بھاری پتھر رکھ کر گھنٹوں تڑپا یا جاتا ۔ جو لوگ پیشہ ور تھے ان اس کام لیا جاتا اور اجرت ادا کرنے میں پریشان کیا جاتا ۔ چنانچہ  صحیحین میں حضرت خباب بن ارت کی یہ روایت موجود ہے کہ :           '' میں مکے میں لوہار کا کام کرتا تھا ، مجھ سے عاص بن دائل نے کام  لیا ، پھر جب میں اس سے اجرت لینے گیا تو اس نے کہا کہ تیری اجرت نہ دونگا جب تک تو محمد کا انکار نہ کرے" اسی طرح جو لوگ تجارت کرتے تھے ان کے کاروبار کر بر باد کرنے کی کوششیں کی جاتیں اور جو معاشرے میں کچھ عزت کا مقام رکھتے ان کو ہر طریقے سے ذلیل و رسوا کیا جاتا ۔ اسی زمانے کا حال بیان کرتے ہوئے حضرت خباب کہتے ہیں کہ ایک روز نبی ﷺ کعبے کے سائے میں تشریف فرما تھے ۔ میں نے آپ کی خدمت حاضر ہو کر عرض کیا " یا رسول اللہ ۔ اب تو ظلم کی حد ہو گئی ہے ۔ آپ خدا سے دعا فرماتے ؟ " یہ سن کر آپ کا چہرہ مبارک تمتما اٹھا اور آپ نے فرمایا " تم سے پہلے جو اہل ایمان تھے ان پر اس سے زیادہ مظالم ہو چکے ہیں ۔ ان کی ہڈیوں پر لوہے کی کنگھیاں گھسی جاتی تھیں ، ان کے سروں پر رکھ کر آرے چلائے جاتے پھر بھی وہ اپنے دین سے   نہ پھر تے تھے ۔ یقین جانو کہ اللہ اس کام کو پورا کر کے رہے گا یہاں تک کہ ایک وقت وہ آئے گا کہ ایک آدمی صنعاء  سے حضر موت تک بے کھٹکے سفر کرے گا اور اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ ہو گا ، مگر تم لوگ جلد بازی کرتے ہو" (بخاری)۔ یہ حالات جب نا قابل برداشت حد تک پہنچ گئے تو رجب 45ہجری عام الفیل (شہ نبوی ) میں حضور نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ لوخرجتم الی ارض الحبشتہ فان بھا ملکالایطیلم عندہ احد وھی ارض صد حتی یجعل اللہ لکم فرجام ما انتم فیہ ۔ '' اچھا ہو کہ تم لوگ نکل کر حبش چلے جاؤ ۔ وہاں ایک ایسا بادشاہ ہے جس کے ہاں کسی پر ظلم نہیں ہوتا اور وہ بھلائی کی سر زمین ہے ۔ جب تک اللہ تمہاری اس مصیبت کو رفع کرنے کی کوئی صورت پیدا کرے ، تم لوگ وہاں ٹھیرے رہو۔'' اس ارشاد کی بنا پر پہلے گیارہ مردوں اور چار خواتین نے حبش کی راہ لی ۔ قریش کے لوگوں نے ساحل تک ان کا پیچھا کیا ، مگر خوش قسمتی سے شعیبہ کے بندر گاہ پر ان کو بر وقت حبش کے لئے کشتی مل گئی اور وہ گرفتار ہونے سے بچ گئے ۔ پھر چند مہینوں کے اندر مزید لوگوں نے ہجرت کی یہاں تک کہ 83 مرد گیارہ عورتیں اور 7 غیر قریشی مسلمان حبش میں جمع ہو گئے اور مکے میں نبی ﷺ کے ساتھ صرف 40 آدمی رہ گئے ۔ اس ہجرت سے مکے کے گھر گھر میں کہرام مچ گیا ، کیونکہ قریش کے بڑے اور چھوٹے خاندانوں میں سے کوئی ایسا نہ تھا جس کے چشم و چراغ ان مہاجرین میں شامل نہ ہوں ۔ کسی کا بیٹا گیا تو کسی کا داماد ، کسی کی بیٹی گئی تو کسی کا بھائی اور کسی کی بہن ۔ ابو جہل کے بھائی اور کسی کی بہن ۔ ابو جہل کے بھائی سلمہ بن ہشام ، اس کے چچا زاد بھائی ہشام بن ابی حذیفہ اور عیاش بن ابی ربیعہ اور اس کی چچا زاد بہن حضرت ام سلمہ ، ابو سفیان کی بیٹی ام حبیبیہ ۔ عتبہ کے بیٹے اور ہند جگر خوار کے سگے بھائی ابو حذیفہ ۔ سہل بن عمرد کی بیٹی سلہلہ ۔ اور اسی طرح دوسرے سردار قریش اور مشہور دشمنان اسلام کے اپنے جگر گوشے دین کی خاطر گھر بار چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے تھے ۔ اسی لئے کوئی گھر نہ تھا جو اس واقعہ سے متاثر نہ ہوا ہو۔ بعض لوگ اس کی وجہ سے اسلام دشمنی میں پلے سے زیادہ سخت ہو گئے ۔ اور بعض کے دلوں پر اس کا اثر ایسا ہوا کہ آخر کار وہ مسلمان ہو کر رہے ۔ چنانچہ حضرت عمر ؓ  کی اسلام دشمنی پر پہلی چوٹ اسی واقعہ سے لگی ۔ ان کی ایک قریبی رشتہ دار لیلی بنت حشمہ بیان کرتی ہیں کہ میں ہجرت کے لئے اپنا سامان باندھ رہی تھی ، اور میرے شوہر عامر بن ربیعہ کسی کام سے باہر گئے ہوئے تھے ۔ اتنے میں عمر ؓ  آئے اور کھڑے ہو کر میری مشغولیت کو دیکھتے رہے کچھ دیر کے بعد کہنے لگے ''عبداللہ کی ماں ، جارہی ہو'' ؟ میں نے کہا '' ہاں خدا کی قسم تم لوگوں نے ہمیں ستایا۔  خدا کی زمین کھلی پڑی ہے ، اب ہم کسی ایسی جگہ چلے جائیں جہاں خدا ہمیں چین دے " یہ سن کر عمر کے چہرے پر رقت کے ایسے آثار طاری ہوئے جو میں نے کبھی ان پر نہ دیکھے تھے اور وہ بس یہ کہ کر نکل گئے کہ " خدا تمہارے ساتھ ہو" ۔ ہجرت کے  بعد قریش کے سردار سر جوڑ کر بیٹھے اور انہوں نے طے کیا کہ عبداللہ بن ابی ربیعہ (ابو جہل کے ماں جائے بھائی ) اور عمرو بن عاص کو بہت سے قیمتی تحائف کے ساتھ حبش جائے اور یہ لوگ کیس نہ کسی طرح نجاشی کو اس بات رپ راضی کریں کہ وہ ان مہا جرین کو مکہ واپس بھیج دے ۔ ام المومنین حضرت ام سلمہ نے (جو خود مہاجرین حبشہ میں شامل تھیں ) یہ واقعہ بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے ۔ وہ فرماتی ہیں کہ قریش کے یہ دونوں ماہر سیاست سفیر ہمارے تعاقب میں حبش ۔ پہلے انہوں نے نجاشی کے اعیان سلطنت میں خو ہدیہ تقسیم کر کے سب کو اس بات پر راضی کر لیا کہ وہ مہاجرین کو واپس کرنے کے لئے نجاشی پر بالاتفاق زور دیں گے ۔ پھر نجاشی سے ملے اور اس کو بیش قیمت نذرانہ دینے کے بعد کہا کہ '' ہمارے شہر کے چند نادان زور دیں گے۔ پھر نجاشی سے ملے اور اس کو بیش قیمت نذرانہ دینے کے بعد کہا '' ہمارے شہر کے چند نادان لونڈے بھاگ کر آپ کے ہاں آ گئے ہیں قوم کے اشرف نے ہمیں آپ کے پاس ان کی واپسی کو درخواست کرنے کے لئے بھیجا ہے ۔ یہ لڑ کے ہمارے دین سے نکل گئے ہیں اور آپ کے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے ہیں بلکہ انہوں نے ایک نرالا دین نکال لیا نکال لیا ہے'' ان کا کالم ختم ہوتے ہی اہل در بار ہر طرف سے بولنے لگے کہ " ایسے لوگوں کو ضرور واپس کر دینا چاہیے ، ان کی قوم کے لوگ زیادہ جانتے ہیں کہ ان میں کیا عیب ہے۔ انہیں رکھنا ٹھیک نہیں ہے۔ مگر نجاشی نے بگڑ کر کہا کہ " اس طرح تو میں انہیں حوالے نہیں کروں گا ۔ جن لوگوں نے دوسرے ملک کو چھوڑ کر میرے ملک پر اعتماد کیا اور یہاں پناہ لینے کے لئے  آئے ان سے میں بے وفائی نہیں کر سکتا پہلے میں انہیں بلا کر تحقیق کروں گا کہ یہ لوگ ان کے بارے میں جو کچھ کہتے  ہیں اس کی حقیقت کیا ہے " چنانچہ نجاشی نے اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنے دربار میں بلا بھیجا۔ نجاشی کا پیغام پا کر سب مہاجرین جمع ہوئے اور انہوں نے باہم مشورہ کیا کہ بادشاہ کے سامنے کیا کہنا ہے ۔ آخر سب نے بالاتفاق یہ فیصلہ کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جو تعلیم ہمیں دی ہے ہم تو وہی بے کم و کاست پیش کریں گے خواہ نجاشی کریں گے خواہ نجاشی ہمیں رکھے یا نکال دے ۔ دربار میں پہنچے تو چھوٹتے ہی نجاشی نے سوال کیا کہ " یہ تم لوگوں نے کیا کیا کہ اپنی قوم کا دین بھی چھوڑ اور میرے دین داخل نہ ہوئے ، نہ دنیا کے دوسرے ادیان ہی میں سے کسی کو اختیار کیا ؟  آخر یہ تمہارا نیا دین ہے کیا ''؟ اس پر مہاجرین کی طرف سے جعفر بن ابی طالب نے ایک بر جستہ تقریر کی جس میں پہلے عرب جاہلیت کی دینی ، اخلاقی اور معاشرتی خرابیوں کی بیان کیا ، پھر نبی ﷺ کی بعثت کا ذکر کر کے بتا یا کہ آپ کیا تعلیمات پیش فرماتے ہیں ، پھر ان مظالم کا ذکر کیا جو آنحضور کی پیروی اختیار کرنے والوں پر قریش کے لوگ ڈھا رہے تھے ، اور کلام اس بات پر ختم کیا دوسرے ملکوں کے بجا ئے ہم ے آپ کے ملک کا رح اس امید پر کیا ہے کہ یہاں ہم پر ظلم نہ ہو گا ۔ نجاشی نے یہ تقریر سن کر کہا کہ ذرا مجھے وہ کلام تو سناؤ جو تم کہتے وہ کہ خدا کی طرف سے تمہارے نبی پر اترا ہے۔حضرت جعفر نے جواب میں سورہ مریم کا وہ ابتدائی حصہ سنا یا جو حضرت یحیی اور حضرت عیسی علیہما اسلام سے متعلق ہے ۔ نجاشی اس کو سنتا رہا اور روتا رہا یہاں تک کہ اس کی ڈاڑھی تر ہو گئی جب حضرت جعفر نے تلاوت ختم کی تو اس نے کہا  کہ '' یقیناً یہ کلام اور جو کچھ عیسی لائے تھے دونوں ایک ہی سر چشمے سےنکلے ہیں ۔ خدا کی قسم میں تمھیں ان لوگوں کے حوالے نہ کروں گا " ۔ دوسرے روز عمر و بن العاص نے نجاشی سے کہا کہ '' ذرا ان لوگوں سے بلا کر یہ تو پوچھے کہ عیسی بن مریم کے بارے میں ان کا عقیدہ کیا ہے ۔ یہ لوگ ان کے متعلق ایک بڑی بات کہتے ہیں '' نجاشی نے پھر مہاجرین کو بلا بھیجا ۔ مہاجرین کو پہلے سے عمر ذکی کی چال کا علم ہو چکا تھا ۔ انہوں نے جمع ہو کر پھر مشورہ کیا کہ اگر نجاشی نے عیسی ؑ کے بارے میں سوال کیا تو جواب دو گے ؟ موقع بڑا نازک تھا اور سب اس سے پریشان تھے ۔ مگر پھر بھی اصحاب رسول اللہ نے یہی فیصلہ کیا کہ جو کچھ ہوتا ہے ہو جائے ہم تو وہی بات کہیں گے جو اللہ نے فرمائی اور اللہ کے رسول نے سکھائی ۔چنانچہ جب یہ لوگ دربار میں گئے اور نجاشی نے عمر دین العاص کا پیش کردہ سوال ان کے سامنے دہرایا تو جعفر بن ابی طالب نے اٹھ کر بلاتا مل کہا کہ " ھو عبداللہ و رسولہ و رحہ کلمتہ القاھاالی مریم لاعزراء البتول ۔وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کی طرف سے ایک روح اور ایک کلمہ ہیں جسے اللہ نے کنواری مریم پر القا کیا '' نجاشی نے سن کر ایک تنکا زمین سے اٹھا یا اور کہا '' خدا کی قسم جو کچھ تم نے کہا ہے عیسی اس سے تنکے کے برابر بھی زیادہ نہیں تھے ۔'' اس کے بعد نجاشی نے قریش کے بھیجے ہوئے تمام ہدیے  یہ کہ کر واپس کر دے کہ میں رشوت نہیں لیتا اور مہاجرین سے کہا کہ تم بالکل اطمینان کے ساتھ رہو۔

موضوع اور مضمون:

اس تاریخی پس منظر کو نگاہ میں رکھ کر جب ہم اس سورے کو دیکھتے ہیں تو اس میں اولیں بات نمایاں ہو کر ہمارے سامنے یہ آتی ہے کہ اگر چہ مسلمان ایک مظلوم پناہ گزیں گروہ کی حیثیت سے اپنا وطن چھوڑ کر دوسرے ملک میں جا رہے  تھے ، مگر اس حالت میں بھی اللہ تعالی نے ان کو دین کے معاملے میں ذرہ برابر مداہنت کرنے کی تعلیم نہ دی ، بلکہ چلتے وقت زاد راہ کے طور پر یہ سورہ ان کے ساتھ کی تاکہ عیسائیوں کے ملک میں عیسیؑ کی بالکل صحیح حیثیت پیش کریں اور انکے ابن اللہ ہونے  کا صاف صاف انکار کر دیں۔

پہلے دو رکوعوں میں یحیی اور عیسی کا قصہ سنا نے کے بعد پھرتی سے رکوع میں حالات زمانہ کی مناسبت سے حضرت ابراہیمؑ کا قصہ سنا یا گیا ہے کیونکہ ایسے ہی حالات میں وہ بھی اپنے باپ اور خاندان اور اہل ملک کے ظلم سے تنگ آ کر وطن سے نکل کھڑے ہوئے تھے۔ اس سے ایک طرف کفار مکہ کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ آج ہجرت کرنے والے مسلمان ابراہیمؑ کی پوزیشن میں ہیں اور تم لوگ ان ظالموں کی پوزیشن میں ہو جنہوں نے تمہارے باپ اور پیشواؤ ابراہیم ؑ کو گھر سے نکالا تھا ۔ دوسری طرف مہاجرین کوک یہ بشارت دی گئی ہے کہ جس طرح ابراہیم ؑ وطن سے نکل کر تباہ نہ ہوئے بلکہ اور زیادہ سر بلند ہو گئے ایسا ہی انجام نیک تمہارا انتظار کر رہا ہے۔

اس کے بعد چوتھ رکوع میں دوسرے انبیاء کا ذکر کیا گیا ہے جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تمام انبیاءؑ وہی دین لے کر آئے تھے جو محمد ﷺ لائے ہیں ، مگر انبیاء کے گزر جانے کے بعد ان کی امتیں بگڑتی رہی ہیں اور آج مختلف امتوں میں جو گمراہیاں پائی جا رہی ہیں یہ اسی بگاڑ کا نتیجہ ہیں ۔

آخر دو رکوعوں میں کفار مکہ کی گمراہیوں پر سخت تنقید کی گئی ہے اور کلام ختم کرتے ہوئے اہل ایمان کو مژدہ سنا یا گیا ہے کہ دشمنان حق کی سار ی کوششوں کے باوجود بالآخر تم محبوب خلائق ہو کر رہو گے۔

Source: سید ابو اعلیٰ مودودیؒ - تفہیم القرآن