VERSES
128
PAGES
267-281

نام :

  آیت ۶۸ کے فقرے

وَاَوْ حٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحْلِ

سے ماخوذ ہے۔ یہ بھی محض علامت ہے نہ کہ موضوع ِ بحث کا عنوان۔

زمانہ ٴنزول :

 متعدد اندرونی شہادتوں سے اس کے زمانۂ نزول پر روشنی پڑتی ہے۔ مثلًا:

 آیت ۴۱ کے فقرے   وَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا فِی اللہِ مِنْم بَعْدِ مَا ظُلِمُوْ ا

سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت ہجرت حبشہ واقع ہو چکی تھی۔

آیت ۱۰۶ مَنْ کَفَرَ بِاللہِ مِنْم بَعْدِ اِیْمَانِہٖ الآ

یہ  سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ظلم و ستم پوری شدت کے ساتھ ہو رہا تھا اور یہ سوال پیدا ہو گیا تھا کہ اگر کوئی شخص ناقابلِ برداشت اذیّت سے مجبور ہو کر کلمہ ٔ کفر کہہ بیٹھے تو اس کا کیا حکم ہے۔

آیات ۱۱۲ – ۱۱۴ وَضَرَ بَ اللہُ مَثَلًا قَرْ یَۃً ۔۔۔۔۔۔ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّا ہُ تَعْبُدُوْنَ

کا صاف اشارہ اس طرف ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد مکّہ میں جو زبردست قحط رُونما ہوا تھا وہ اِس سورے کے نزول کے وقت ختم ہو چکا تھا۔

اِس سورہ میں آیت ۱۱۵۔ ایسی ہے جس کا حوالہ سورۂ اَنعام آیت ۱۱۹ میں دیا گیا ہے، اور دوسری آیت (نمبر ۱۱۸) ایسی ہے جس میں سورۂ اَنعام کی آیت ۱۴۶ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان دونوں سورتوں کا نزول قریب العہد ہے۔

 ان شہادتوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس سورے کا زمانۂ نزول بھی مکّے کا آخری دَور ہی ہے ، اور اسی کی تائید سُورے کے عام اندازِ بیان سے  بھی ہوتی ہے۔  

موضوع اور مرکزی مضمون:

  ”شرک کا ابطال  ، توحید کا اثبات ، دعوتِ پیغمبر کو نہ ماننے کے بُرے نتائج پر تنبیہ و فہمائش ، اور حق کی مخالفت و مزاحمت پر زجرو توبیخ۔

مُباحِث:

  

“سورے کا آغاز بغیر کسی تمہید کے یک لخت ایک تنبیہی جملے سے ہوتا ہے ۔ کفارِ مکہ بار بار کہتے تھے کہ ”جب ہم تمہیں جھٹلا چکے ہیں اور کھلم کھلا تمہاری مخالفت کر رہے ہیں تو آخر وہ خدا کا عذاب آکیوں نہیں جاتا جس کی تم ہمیں دھمکیاں دیتے ہو“۔ اس بات کو وہ بالکل تکیۂ کلام کی طرح اس لیے دہراتے تھے کہ ان کے نزدیک  یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغمبر نہ ہونے کا سب سے زیادہ صریح ثبوت تھا۔ اس پر فرمایا کہ بیوقوفو! خدا کا عذاب تو تمہارے سر پر تُلا کھرا ہے، اب اسکے  ٹوٹ پڑنے کے لیے جلدی  نہ مچاؤ بلکہ جو ذرا سی مہلت باقی ہے اس سے فائدہ اٹھا کہ بات سمجھنے کی کوشش کرو۔ اس کے بعد فورًا ہی تفہیم کی تقریر شروع ہو جاتی ہے اور حسبِ ذیل مضامین بار بار یکے بعد دیگرے سامنے آنے شروع ہوتے ہیں:

(۱) دل لگتے دلائل اور آفاق و انفُس کے آثار کی کھلی کھلی شہادتوں سے سمجھا یا جاتا  ہے کہ شرک باطل ہے اور توحید ہی حق ہے۔

(۲)  منکرین کے اعتراضات ، شکوک ، حجتوں اور حیلوں کا ایک ایک کر کے جواب دیا جاتا ہے۔

(۳) باطل پر اصرار اور حق کے مقابلہ میں استکبار کے بُرے نتائج سے ڈرایا جاتا ہے۔

(۴) اُن اخلاقی اور عملی تغیرات کو مُجمَل مگر دل نشین انداز سے بیان کیا جاتا ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دین انسانی زندگی میں لانا چاہتا ہے ، اور اس سلسلہ میں مشرکین کو بتایا جاتا ہے کہ خدا کو رب ماننا ، جس کا انہیں دعویٰ تھا، محض خالی خولی مان لینا ہی نہیں ہے بلکہ اپنے کچھ تقاضے بھی رکھتا ہے جو عقائد ، اخلاق ا ور عملی زندگی میں نمودار ہونے چاہییں۔

(۵) نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کی ڈھارس بندھائی جاتی ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ کفار کی مزاحمتوں اور جفاکاریوں  کے مقابلہ میں ان کا رویہ  کیا ہونا چاہیے۔

Source: سید ابو اعلیٰ مودودیؒ - تفہیم القرآن