سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تذکیر القرآن تفسیر: يوسف آیہ 81

12:81
ارجعوا الى ابيكم فقولوا يا ابانا ان ابنك سرق وما شهدنا الا بما علمنا وما كنا للغيب حافظين ٨١
ٱرْجِعُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَبِيكُمْ فَقُولُوا۟ يَـٰٓأَبَانَآ إِنَّ ٱبْنَكَ سَرَقَ وَمَا شَهِدْنَآ إِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَـٰفِظِينَ ٨١
اِرْجِعُوْۤا
اِلٰۤی
اَبِیْكُمْ
فَقُوْلُوْا
یٰۤاَبَانَاۤ
اِنَّ
ابْنَكَ
سَرَقَ ۚ
وَمَا
شَهِدْنَاۤ
اِلَّا
بِمَا
عَلِمْنَا
وَمَا
كُنَّا
لِلْغَیْبِ
حٰفِظِیْنَ
۟
تم لوٹ جاؤ اپنے والد کے پاس اور (جا کر) کہو کہ ابا جان ! آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے اور ہم گواہی نہیں دے سکتے مگر اسی چیز کی جس کے بارے میں ہمیں علم ہے اور ہم غیب کے نگہبان نہیں ہیں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 12:80 سے 12:82 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

حضرت یوسف کے سوتیلے بھائیوں میں غالباً ایک بھائی دوسروں سے مختلف تھا۔ اسی بھائی نے ابتدائی مرحلہ میں مشورہ دیا تھا کہ یوسف کوقتل نہ کرو بلکہ کسی اندھے کنوئیں میں ڈال دو تاکہ کوئی آتا جاتا قافلہ اس کو نکال لے جائے۔ یہی حال اب اس بھائی کا مصر میںہوا۔ وہ دوسرے بھائیوں سے الگ ہوگیا۔ اس کی غیرت نے گوارا نہیں کیا کہ جس باپ کے نزدیک وہ ایک بھائی کو کھونے کا مجرم بن چکا ہے، اسی باپ کے سامنے اب وہ دوسرے بھائی کو کھونے کا مجرم بن کر حاضر ہو۔