VERSES
5
PAGES
603-603

نام:

 

 پہلی آیت کے لفظ لَھَب

کو اس سُورہ کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانۂ نزول:

 

اِس کے مکّی ہونے میں تو مفسرین کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے، لیکن ٹھیک ٹھیک یہ متعیّن کرنا مشکل ہے کہ مکّی دور کے کس زمانے میں یہ نازل ہوئی تھی۔ البتّہ ابو لہب کا جو کردار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی دعوتِ حق کے خلاف تھا اُس کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اِس سورہ کا نزول اُس زمانے میں ہوا ہو گا جب وہ حضورؐ کی عداوت میں حد سے گزر گیا تھا اور اُس کا رویّہ اسلام کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن رہا تھا۔ بعید نہیں کہ اِس کا نزول اُس زمانے میں ہوا ہو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے خاندان والوں کا مقاطعہ کر کے قریش کے لوگوں نے اُن کو شعبِ ابی طالب میں محصور کر دیا تھا اور تنہا ابو لہب ہی ایسا شخص تھا جس نے اپنے خاندان والوں کو چھوڑ کر دشمنوں کا ساتھ دیا تھا۔ ہمارے اِس قیاس کی بنا یہ ہے کہ ابو لہب حضورؐ کا چچا تھا، اور بھتیجے کی زبان سے چچا کی کھلّم کھلا مَذَمَّت کرانا اُس وقت تک مناسب نہ ہو سکتا تھا جب تک چچا کی حد سے گزری ہوئی زیادتیاں عَلانیہ سب کے سامنے نہ آگئی ہوں۔ اِس سے پہلے اگر ابتداء ہی میں یہ سورۃ نازل کر دی گئی  ہوتی تو لوگ اس کو اخلاقی حیثیت سے معیوب سمجھتے کہ بھتیجا  اپنے چچا کی اِس طرح مذمّت کرے۔

پَسْ منظر :

قرآن مجید میں یہ ایک ہی مقام ہے جہاں دشمنانِ اسلام میں سے کسی شخص کا نام لے کر اُس کی مَذَمَّت کی گئی ہے، حالانکہ مکّے میں بھی، اور ہجرت کے بعد مدینہ میں بھی بہت سے لوگ ایسے تھے جو اسلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کی عداوت میں ابو لہب سے کسی طرح کم نہ تھے۔ سوال یہ ہے کہ اِس شخص کی وہ کیا خصوصیت تھی جس کی بنا پر اس کا نام لے کر اس کی مذمت کی گئی ؟ اِس بات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اُس وقت کے عربی معاشرے کو سمجھا جائے، اور اُس میں ابو لہب کے کردار کو دیکھا جائے۔

قدیم زمانے میں چونکہ پورے ملکِ عرب میں ہر طرف بد امنی ، غارت گری اور طوائف الملوکی پھیلی ہوئی تھی ، اور صدیوں سے حالت یہ تھی کہ کسی شخص کے لیے اُس کے خاندان اور خونی رشتہ داروں کی حمایت کے سوا جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کی کوئی ضمانت نہ تھی، اس لیے عربی معاشرے  کی اخلاقی قدروں میں صلۂ رحمی (یعنی رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک ) کو بڑی اہمیت حاصل تھی، اور قطعِ رحمی کو بہت بڑا پاپ سمجھا جاتا تھا۔ عرب کی اِنہی روایات کا یہ اثر تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اسلام کی دعوت لے کر اُٹھے تو قریش کے دوسرے خاندانوں اور ان کے سرداروں نے تو حضورؐ کی شدید مخالفت کی، مگر بنی ہاشم اور بنی المُطَّلِب (ہاشم کے بھائی مُطّلِب کی اولاد) نے نہ صرف یہ کہ آپؐ کی مخالفت نہیں کی، بلہ وہ کھُلّم کھلا آپؐ کی حمایت کرتے رہے، حالانکہ ان میں سے اکثر لوگ آپؐ کی نبوّت پر ایمان نہیں  لائے تھے۔ قریش کے دوسرے خاندان خود بھی حضورؐ کے اِن خونی رشتہ داروں کی حمایت کو عرب کی اخلاقی روایات کے عین مطابق سمجھتے تھے ، اسی وجہ سے انہوں نے کبھی بنی ہاشم اور بنی المُطَّلِب کو یہ طعنہ نہیں دیا کہ تم ایک دوسرا  دین پیش کرنے والے شخص کی حمایت کر  کے اپنے دینِ آبائی سے منحرف ہو گئے ہو۔ وہ اِس بات کو جانتے اور مانتے تھے کہ اپنے خاندان کے ایک فرد کو وہ کسی حالت میں اُس کے دشمنوں کے حوالے نہیں کر سکتے، اور اُ ن کا اپنے عزیز کی پشتیبانی کرنا قریش اور اہلِ عرب سب کے نزدیک بالکل ایک فطری امر تھا۔

اِس اخلاقی اصول کو ، جسے زمانۂ جاہلیت میں بھی عرب کے لوگ واجب الاحترام سمجھتے تھے، صرف ایک شخص نے اسلام کی دشمنی میں توڑ ڈالا ، اور وہ تھا ابو لہب بن عبد المطّلِب۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا تھا۔ حضورؐ کے والد ماجد اور یہ ایک ہی باپ کے بیٹے تھے۔ عرب میں چچا کو باپ کی جگہ سمجھا جاتا تھا، خصوصًا جبکہ بھتیجے، کا باپ وفات پا چکا ہو تو عربی معاشرے میں چچا سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ بھتیجے کو اپنی اولاد کی طرح عزیز رکھے گا۔ لیکن اِس شخص نے اسلام کی دشمنی  اور کفر کی محبت میں اِن تمام عربی روایات کو پامال کر دیا۔

ابن عباسؓ سے متعدد  سندوں کے ساتھ یہ روایت محدثین نے نقل کی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوتِ عام پیش کرنے کا حکم دیا گیا اور قرآن مجید میں یہ ہدایت نازل ہوئی کہ آپ اپنے قریب ترین عزیزوں کو سب سے پہلے خدا کے عذاب سے ڈرائیں تو آپ نے صبح سویرے کوہ صفا پر چڑھ کر بلند آواز سے پکارا، یا صبا حاہ (ہائے صبح کی آفت)۔ عرب میں یہ صدا  وہ شخص لگاتا تھا جو صبح کے جھُٹ پُٹے میں کسی دشمن کو اپنے قبیلے پر حملہ کرنے کے لیے آتے دیکھ لیتا تھا۔ حضورؐ کی یہ آواز سُن کر لوگوں نے دریافت کیا کہ یہ کون پکار رہا ہے۔ بتایا گیا یہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کی آواز ہے۔ اس پر قریش کے تمام خاندانوں کے لوگ آپؐ کی طرف دوڑ پڑے۔ جو خود آسکتا تھا وہ خود آیا، اور جو نہ آسکتا تھا اُس نے اپنی طرف سے کسی کو  بھیج دیا۔ جب سب جمع ہو گئے تو آپؐ نے قریش کے ایک ایک خاندا ن کا نام لے لے کر پکارا، اے بنی ہاشم، اے بنی عبد المطلب، اے بنی فِہر، اے بنی فلاں، اے بنی فلاں، اگر میں تمہیں یہ بتاؤں کہ پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر تم پر حملہ کرنے  کے لیے تیار ہے تو تم میری بات سچ مانو گے؟ لوگوں نے کہا ہاں، ہمیں کبھی تم سے جھوٹ سننے کا تجربہ نہیں ہوا ہے۔ آپؐ نے فرمایا تو میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ آگے سخت عذاب آرہا ہے۔ اس پر قبل اِس کے کہ کوئی اور بولتا ، حضورؐ کے اپنے چچا ابو لہب نے کہا تَبًّا لَکَ اَلِھٰذَا جَمَعْتَنَا

؟”ستیاناس جائے تیرا ، کیا اس لیے تُو نے ہمیں جمع کیا تھا؟“ ایک روایت  میں یہ بھی ہے کہ اس نے پتھر اٹھایا تا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کھینچ  مارے (مُسند احمد، بخاری ، مسلم، ترمذی، ابن جریر وغیرہ)۔

اِبن زَید کی روایت ہے کہ ابو لہب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک  روز پوچھا اگر میں تمہارے دین کو مان لوں تو مجھے کیا ملے گا؟ آپؐ نے فرمایا جو اور سب ایمان لانے والوں کو ملے گا۔ اس نے کہا میرے لیے کوئی فضیلت نہیں ہے؟ حضورؐ نے فرمایا اور آپ کیا چاہتے ہی؟ اس پر وہ بولا تَبًّا لِھٰذَا الدِّیْنِ تَبًّا اَنْ اَکُوْنَ وَھٰٓئُو لَا ءِ سَوَآءً۔

 ”ناس جائے اِس دین کا جس میں میں اور یہ دوسرے لوگ برابر ہوں“ (ابن جریر)۔

مکّہ میں ابو لہب حضورؐ کا قریب ترین ہمسایہ تھا۔ دونوں کے گھر ایک دیوار  بیچ واقع تھے۔ اُس کے علاوہ حَکَم بن عاص (مروان کا باپ) عُقْبہ بن ابی مُعَیط، عَدِی بن حَمْر اء اور ابن الاَصْداءِ الہُذَلِی بھی آپ کے ہمسائے تھے۔ یہ لوگ گھر میں بھی حضورؐ کو چین نہیں لینے دیتے تھے۔ آپ  کبھی نماز پڑھ رہے ہوتے تو یہ اوپر سے بکری کا اوجھ آپؐ پر پھینک دیتے ۔ کبھی صحن میں کھانا پک رہا ہوتا تو یہ ہنڈیا پر غلاظت پھینک دیتے ۔ حضورؐ باہر نکل کر ان لوگوں سے فرماتے ”اے بنی عبد مَناف ، یہ کیسی ہمسایگی ہے؟“۔ ابو لہب کی بیوی امِّ جمیل (ابو سفیان کی بہن) نے تو یہ مستقل وتیرہ ہی اختیار کر رکھا تھا کہ راتوں کو آپؐ کے گھر کے دروازے پر خاردار جھاڑیاں لا کر ڈال دیتی ، تاکہ صبح سویرے جب آپؐ یا آپؐ کے بچے باہر نکلیں تو کوئی کانٹا پاؤں میں چُبھ جائے(بَیْہَقِی، ابن ابی حاتم، ابن جریر، ابن عَساکِر، ابن ہِشام)۔

نبوت سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیاں ابو لہب کے دو بیٹوں عُتْبَہ اور  عُتَیبہ سے بیاہی ہوئی تھیں۔ نبوت کے بعد جب حضورؐ نے اسلام کی طرف دعوت دینی شروع کی تو اِس شخص نے اپنے دونوں بیٹوں سے کہا کہ میرے لیے تم سے ملنا حرام ہے اگر تم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیٹیوں کو طلاق نہ دے دو ۔ چنانچہ دونوں نے طلاق دے دی۔ اور عُتَیبہ تو جہالت میں اس قدر آگے بڑھ گیا کہ ایک روز حضورؐ کے سامنے آکر اس نے کہا کہ میں

النَّجْمِ اذَا ھَوٰی اور اَلَّذِیْ دَنَا فَتَدَلّٰی

کا انکار کرتا ہوں، اور یہ کہہ کر اس نے حضورؐ کی طرف تھوکا جو آپؐ پر نہیں پڑا۔ حضورؐ نے فرمایا خدایا، اِس پر اپنے کتّوں میں ست ایک کتّے کو مسلّط کر دے۔ اِس کے بعد عتیبہ اپنے باپ کے ساتھ  شام کے سفر پر روانہ ہو گیا۔ دَورانِ سفر میں ایک  ایسی جگہ قافلے نے پڑاؤ کیا جہاں مقامی لوگوں نے بتایا کہ راتوں کو درندے آتے ہیں۔ ابو لہب نے اپنے ساتھی اہلِ قریش سے کہا کہ میرے بیٹے کی حفاظت کا کچھ انتظام کر و، کیونکہ مجھے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بددعا  کا خو ف ہے۔ اس پر قافلے والوں نے عُتَیبہ کے گرد ہر طرف اپنے اُونٹ بٹھا دیے اور پڑ کر سو رہے۔ رات کو ایک شیر آیا اور اونٹوں کے حلقے میں سے گزر کر اُس نے عتیبہ کو پھاڑ کھایا۔ (الاستِعیاب لابن عبد الَبّر، الاِ صا بہ بن حَجْر، دلائل النبوۃ لا بی نعیم الاصفہانی، روض الانف للسُّہَیلی۔ روایات میں یہ اختلاف ہے کہ بعض راوی طلاق کے معاملے  کو اعلانِ نبوّت کے بعد کا واقعہ بیان کرتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ یہ

تَبَّتْ یَدَآ اَبِیْ لَھَبٍ

کے نزول کے بعد پیش آیا تھا۔ اس امر میں بھی اختلاف ہے کہ یہ ابو لہب کا لڑکا عُتْبہ تھا یا عُتَیبہ ۔ لیکن یہ  بات ثابت ہے کہ فتح مکّہ کے بعد عُتبَہ نے اسلام قبول کر کے حضورؐ کے دست مبارک پر بیعت کی۔ اس لیے صحیح بات یہی ہے کہ یہ لڑکا عُتَیبہ تھا)۔

اُس کے خبثِ نفس کا یہ حال تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت قاسم کے بعد دوسرے صاحبزادے حضرت عبد اللہ کا بھی انتقال ہوگیا تو یہ اپنے بھتیجے کے غم میں شریک ہونے کے بجائے خوشی خوشی دوڑا ہوا قریش کے سرداروں کے پاس پہنچا اور اُن کو خبر دی کہ لو آج محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) بے نام و نشان ہو گئے۔ اُس کی اِس حرکت کا ذکر ہم سورۂ کوثر کی تفسیر میں کر چکے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں جہاں بھی اسلام کی دعوت دینے کے لیے تشریف لے  جاتے ، یہ آپؐ  کے پیچھے پیچھے جاتا اور لوگوں کو آپؐ کی بات سننے سے روکتا۔ رَبِیعہؓ بن عَبّاد الدِّیْلیِ بیان کرتے ہیں کہ میں نو عمر تھا  جب اپنے باپ کے ساتھ ذوالمجاز کے بازار میں گیا۔ وہاں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپؐ کہہ رہے تھے،  ” لوگوٗ کہو اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، فلاح پاؤگے۔“ اور آپؐ کے پیچھے پیچھے ایک شخص کہتا جا رہا تھا کہ ”یہ جھوٹا ہے ، دین آبائی سے پھر گیا ہے۔“ میں نے پوچھا یہ کون شخص ہے؟ لوگوں نے کہا یہ ان کا چچا ابو لہب ہے(مُسند احمد، بَیْہَقِی)۔ دوسری روایت انہی حضرت ربیعہؓ سے یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپؐ ایک ایک قبیلے کے پڑاؤ پر جاتے ہیں اور فرماتے ہیں ” اے بنی فلاں، میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔ تمہیں ہدایت کرتا ہوں کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ تم میری تصدیق کرو اور میرا ساتھ دو تا کہ میں وہ کام پورا کروں جس کے لیے اللہ نے مجھے بھیجا ہے۔“ آپؐ کے پیچھے پیچھے ایک اور شخص آتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ ”اے بنی فلاں، یہ تم کو لات اور عُزّیٰ سے پھیر کر اُس بدعت اور گمراہی  کی طرف لے جانا چاہتا ہے  جسے یہ لے کر آیا ہے۔ اس کی بات پرگز نہ مانو اور اس کی پیروی نہ کرو۔“ میں نے اپنے باپ سے  پوچھا یہ کون ہے۔ انہوں نے کہا  یہ ان کا چچا ابو لہب ہے(مُسند احمد، طَبَرانی)۔ طارقؓ بن عبد اللہ المُحارِبی کی روایت بھی اسی سے ملتی جلتی ہے ۔ وہ کہتے ہیں میں نے ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے کہتے جاتے  ہیں کہ  ”لوگو، لا الٰہ الا اللہ کہو، فلاح پاؤ گے۔“ اور پیچھے ایک شخص ہے جو آپؐ کوپتھر مار رہا ہے، یہاں تک کہ آپؐ کی ایڑیاں خون سے تر ہو گئی ہیں، اور وہ کہتا جاتا ہے کہ ” یہ جھوٹا ہے، اس کی بات نہ مانو۔“ میں نے لوگوں سے پوچھا یہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ ان کا چچا ابولہب ہے(ترمذی)۔

نبوت کے ساتویں سال جب قریش کے تمام خاندانوں نے بنی ہاشم اور بنی مطّلب کا معاشرتی اور معاشی مقاطعہ کیا اور یہ دونوں خاندان رسول اللہ صلی اللہ علیہ  وسلم کی حمایت پر ثابت قدم رہتے ہوئے شِعْبِ ابی طالب میں محصور ہو گئے تو تنہا  یہی ابولہب تھا جس نے اپنے خاندان کا ساتھ دینے کے بجائے کفّارِ قریش کا ساتھ دیا۔ یہ مقاطعہ تین سال تک جاری رہا اور اس دوران میں بنی ہاشم اور بنی المُطَّلِب پر فاقوں کی نوبت آگئی۔ مگر ابو لہب کا حال یہ تھا کہ جب مکّہ میں کوئی تجارتی قافلہ آتا اور شِعبِ ابی طالب کے محصورین میں سے کوئی خوراک کا سامان خریدنے کے لیے اس کے پاس جاتا تو یہ تاجروں سے پکار کر کہتا کہ اِن  سے اتنی قیمت مانگو کہ یہ خرید نہ سکیں ، تمہیں جو خسارہ بھی ہو گا اسے میں پورا کروں گا۔ چنانچہ وہ بے تحاشا قیمت طلب کرتے اور خریدار بیچارہ اپنے بھوک سے تڑپتے ہوئے بال بچوں کے پاس خالی ہاتھ پلٹ جاتا۔ پھر ابولہب اُنہی تاجروں سے وہی چیزیں بازار کے بھاؤ خرید لیتا(ابن سعد و ابن ہِشام)۔

یہ اس شخص کی حرکات تھیں جن کی بنا پر اس سورۃ میں نام لے کر اس کی مذمت کی گئی۔ خاص طور پر اس کی ضرورت اس لیے تھی کہ مکّہ سے باہر کے اہلِ عرب جو حج کے لیے آتے، یا مختلف مقامات پر لگنے والے بازاروں میں جمع ہوتے، اُن کے سامنے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا چچا آپؐ کے پیچھے لگ کر آپؐ کی مخالفت کرتا، تو وہ عرب کی معروف روایات کے لحاظ سے یہ بات خلافِ توقع سمجھتے تھے کہ کوئی چچا بلا وجہ دوسروں کے سامنے خود اپنے بھتیجے کو برا بھلا کہے اور اُسے پتھر مارے اور اس پر الزام تراشیاں کرے۔ اِس وجہ سے وہ ابو لہب کی بات سے متأثر ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں شک میں پڑ جاتے ۔ مگر جب یہ سورۃ نازل ہوئی اور ابو لہب نے غصّے میں بپھر کر اَول فَول بکنا شروع کر دیا تو لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں اِس شخص کا قول قابلِ اعتبار نہیں ہے، کیونکہ  یہ اپنے بھتیجے کی دشمنی میں دیوانہ ہو رہا ہے۔

اِس کے علاوہ نام لے کر جب آپؐ کے چچا کی مذمت کی گئی تو لوگوں کی یہ توقع ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دین کے معاملہ میں کسی کا لحاظ کر کے کوئی مداہنت برت سکتے ہیں۔ جب علی الاعلان رسول  کے  اپنے چچا کی خبر لے ڈالی گئی تو لوگ سمجھ گئے کہ یہاں کسی لاگ لپیٹ کی گنجائش نہیں ہے۔ غیر اپنا ہو سکتا ہے اگر ایمان لے آئے، اور اپنا غیر ہو جاتا ہے اگر کفر کرے۔ اِس معاملہ میں فلاں ابنِ فلاں کوئی چیز نہیں ہے۔

Source: سید ابو اعلیٰ مودودیؒ - تفہیم القرآن