VERSES
11
PAGES
600-600

نام :

 

 پہلے لفظ اَلْقَارِعَۃِ

کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے۔ یہ صرف نام ہی نہیں ہے بلکہ اس کے مضمون کا عنوان بھی ہے ، کیونکہ اس میں ساراذکر قیامت ہی کا ہے۔

زمانۂ نزول :

  

اس  کے مکّی ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ بلکہ اس کے مضمون سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بھی مکّۂ معظمہ کے ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے۔

موضوع اور مضمون:

  اس کا موضوع ہے قیامت اور آخرت۔ سب سے پہلے لوگوں کو یہ کہہ کر چَونکا یا گیا ہے کہ عظیم حادثہ ! کیا ہے وہ عظیم حادثہ؟ تم کیا جانو کہ وہ عظیم حادثہ کیا ہے؟ اِس طرح سامعین کو کسی ہولناک واقعہ کے پیش آنے کی خبر سننے کے لیے تیار کرنے کے بعد دو فقروں میں ان کے سامنے قیامت کا نقشہ پیش کر دیا گیا ہے کہ اُس روز لوگ گھبراہٹ کے عالم میں اِس طرح ہر طرف بھاگے بھاگے پھر یں گے جیسے روشنی پر آنے والے پروانے بِکھرے ہوئے ہوتے ہیں، اور پہاڑوں کا حال یہ ہو گا کہ وہ اپنی جگہ سے اکھڑ جائیں گے ، ان کی بندش ختم ہو جائے گی اور وہ دُھنکے ہوئے اون کی طرح ہو کر رہ جائیں گے۔ پھر بتایا گیا ہے کہ آخرت میں جب لوگوں کا حساب کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی  عدالت قائم ہو گی تو اُس میں فیصلہ اِس بنیاد پر ہو گا کہ کس شخص کوے نیک اعمال بُرے اعمال سے زیادہ وزنی ہیں ، اور کس کے نیک اعمال کا وزن اس کے بُرے اعمال کی بہ نسبت ہلکا ہے۔ پہلی قسم کے لوگوں کو وہ عیش نصیب  ہوگا  جس سے وہ خوش ہو جائیں گے ، اور دوسری قسم کے لوگوں کو اُس گہری کھائی میں پھینک دیا جائے گا جو آگ سے بھری ہوئی ہو گی۔

Source: سید ابو اعلیٰ مودودیؒ - تفہیم القرآن