VERSES
109
PAGES
208-221

نام :

اس سورہ کا نام  حسب دستور محض علامت کے طور پر آیت ۹۸ سے لیا گیا ہے جس میں اشارۃً حضرت یونسؑ کا ذکر آیا ہے ۔ سورہ کا موضوع بحث حضرت یونسؑ کا قصہ نہیں ہے۔

مقام نزول :

 

روایات سے معلوم ہوتا ہے اور نفس مضمون سے اس کی تائید ہوتی ہے کہ یہ پوری سورۃ مکّے میں نازل ہو ئی ہے۔ بعض لوگوں کا گمان ہے کہ اس کی بعض آیتیں مدنی دور کی ہیں ، لیکن یہ محض ایک سطحی قیاس ہے۔ سلسلۂ کلام پر غور کرنے سے صاف محسوس ہو جاتا ہے کہ یہ مختلف تقریروں یا مختلف مواقع پر اُتری ہوئی آیتوں کا مجموعہ  نہیں ہے بلکہ شروع سے آخر تک ایک ہی مربوط تقریر ہے جو بیک وقت نازل ہوئی ہو گی، اور مضمون کلام اس بات پر صریح دلالت کر رہا ہے کہ یہ مکی دور کا کلام ہے۔

زمانہ ٴنزول:

 

زمانۂ نزول کے متعلق کوئی روایت ہمیں نہیں ملی۔ لیکن مضمون سے ایسا ہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سورۃ زمانۂ قیام مکہ کے آخر ی دور میں نازل ہوئی ہو گی۔ کیونکہ اس کے اندازِ کلام سے صریح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ مخالفین دعوت کی طرف سے مزاحمت پوری شدت اختیار کر چکی ہے، وہ نبی اور پیروانِ نبی کو اپنے درمیان برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ، ان سے اب یہ امید باقی نہیں رہی ہے کہ تفہیم و تلقین سے راہِ راست پر آجائیں گے، اور اب انہیں اُس انجام سے خبر دار کرنے کا موقع آگیا ہے کہ جو نبی کو آخری اور قطعی طور پر رد کر دینے کی صورت میں انہیں لازمًا دیکھنا ہوگا ۔ مضمون کی یہی خصوصیات ہمیں بتاتی ہیں کہ کونسی سورتیں مکہ کے آخری دور سے تعلق رکھتی ہیں ۔ لیکن اس سورہ میں ہجرت کی طرف بھی کوئی اشارہ نہیں پایا جاتا ، اس لیے اس کا زمانہ  ان سورتوں سے پہلے کا سمجھنا چاہیے جن میں کوئی نہ کوئی خفی یا جلی اشارہ ہم کو ہجرت کے متعلق ملتا ہے ۔۔۔۔۔۔ زمانہ کی اِس تعیین کے بعد تاریخی پس منظر بیان کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی ، کیونکہ اس دور  کا تاریخی پس منظر سورۂ اَنعام اور سورۂ اَعراف کے دیباچوں میں بیان کیا جا چکا ہے۔

موضوع:

 موضوعِ تقریر دعوت، فہمائش اور تنبیہ ہے۔ کلام کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ:

لوگ ایک انسان کے پیغامِ نبوت پیش کرنے پر حیران ہیں اور اسے خواہ مخوا ہ ساحری کا الزام دے رہے ہیں، حالانکہ جو بات وہ پیش کر رہا ہے اس میں کوئی چیز  بھی نہ تو عجیب ہی ہے اور نہ سحر و کہانت ہی سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ تو دو اہم حقیقتوں سے تم کو آگاہ کر رہا ہے۔ ایک یہ کہ جو خدا اس کائنات کا خالق ہے اور اس کا انتظام عملًا چلا رہا ہے صرف وہی تمہارا  مالک و آقا ہے اور تنہا اسی کا یہ حق ہے کہ تم اس کی بندگی کرو۔ دوسرے یہ کہ موجودہ دنیوی زندگی کے بعد زندگی کا ایک اَور دَور آنے والا ہے جس میں توم دوبارہ پیدا کیے جاؤ گے، اپنی موجودہ زندگی کے پورے کارنامے کا حساب دو گے اور ان بنیادی سوال پر چوا یا سزا پاؤگے کہ تم نے اُسی خد ا کو اپنا آقا مان کر اس کے منشا کے مطابق نیک رویہ اختیار کیا یا اس کے خلاف عمل کرتے رہے۔ یہ دونوں حقیقتیں ، جو وہ تمہارے سامنے پیش کر رہا ہے، بجائے خود امر واقعی ہیں خواہ تم مانو یا نہ مانو۔ وہ تمہیں دعوت دیتا ہے کہ تم انہیں مان لو اور اپنی زندگی کو ان کے مطابق بنا لو۔ اس کی یہ دعوت اگر تم قبول کر و گے تو تمہارا اپنا انجام بہتر ہو گا ورنہ خود ہی بُرا نتیجہ دیکھو گے۔

مباحث:

  اس تمہید کے بعد حسبِ ذیل مباحث ایک خاص ترتیب کے ساتھ سامنے آتے ہیں:

(۱) وہ دلائل جو توحیدِ ربوبیت اور حیات اُخروی کے باب میں ایسے لوگوں کو عقل و ضمیر کا اطمینان بخش سکتے ہیں جو جاہلانہ تعصب میں مبتلا نہ ہوں  اور جنہیں بحث کی ہار جیت کے بجائے اصل فکر اس بات کی ہو کہ خود غلط بینی اور اس کے بُرے نتائج سے بچیں۔

(۲) اُن غلط فہمیوں کا ازالہ اور اُن غفلتوں پر تنبیہ جو لوگوں کو توحید اور آخرت کا عقیدہ تسلیم کرنے میں مانع ہو رہی تھیں (اور ہمیشہ ہوا کرتی  ہیں)۔

(۳) اُن شبہات اور اعتراضات کا جواب جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور آپ کے لائے ہوئے پیغام کے بارے میں پیش کیے جاتے تھَ۔

(۴) دوسری زندگی میں جو کچھ پیش آنے والا ہے اس کی پیشگی خبر، تاکہ انسان اس سے ہوشیار  ہو کر اپنے آج کے طرزِ عمل کو درست کر لے اور بعد میں پچھتانے کی نوبت نہ آئے۔

(۵) اس امر پر تنبیہ کہ دنیا کی موجودہ زندگی دراصل امتحان کی زندگی ہے اور اس امتحان کے لیے تمہارے پاس بس اتنی ہی مہلت ہے جب تک تم اس دنیا میں سانس لے رہے ہو۔ اِس وقت کو اگر تم نے ضائع کر دیا  اور نبی کی ہدایت قبول کر کے امتحان کی کامیابی کا سامان نہ کیا تو پھر کوئ دوسرا موقع تمہیں ملنا نہیں ہے۔ اس نبی کا آنا اور اس قرآن کے ذریعہ تم کو علم حقیقت کا بہم پہنچایا جانا وہ بہترین اور ایک ہی موقع ہے جو تمہیں مل رہا ہے۔ اس سے فائدہ نہ اُٹھاؤ گے تو بعد کی ابدی زندگی میں ہمیشہ ہمیشہ  پچھتاؤگے۔

(۶) اُن کھلی کھلی جہالتوں اور ضلالتوں پر اشارہ جو لوگوں کی زندگی میں صرف اس وجہ سے پائی جا رہی تھیں کہ وہ خدائی ہدایت کے بغیر جی رہے تھے۔

اس سلسلہ میں نوح علیہ السلام کا قصہ مختصر ًا اور موسیٰ علیہ السلام کا قصہ  ذرا تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جس سے چار باتیں ذہن نشین کر نی مطلوب ہیں ۔اوّل یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو معاملہ تم لوگ کر رہے ہو وہ اس سے ملتا جلتا ہے جو نوح اور موسی ٰ علیہما السلام کے ساتھ تمہارے پیش رو کر چکے ہیں اور یقین رکھو کہ اس طرزِ عمل کا جو انجام وہ دیکھ چکے ہیں وہی تمہیں بھی دیکھنا پڑے گا۔ دوم یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو آج جس بے بسی و کمزوری مکے حال میں تم دیکھ رہے ہو اس سے کہیں یہ نہ سمجھ لینا کہ صورتِ حال ہمیشہ یہی رہے گی۔ تمہیں خبر نہیں ہے کہ ان لوگوں کی پشت پر وہی خدا ہے جو موسیٰ ؑو ہارون ؑ کی پشت پر تھا اور وہ ایسے طریقہ سے حالات کی بساط اُلٹ دیتا ہے  جس تک کسی کی نگاہ نہیں پہنچ سکتی ۔ سوم یہ کہ سنھلنے کے لیے جو مہلت خدا  تمہیں دے رہا ہے اسے اگر تم نے ضائع کر دیا اور پھر فرعون کی طرح خدا کی پکڑ میں آجانے کے بعد عین آخری لمحے پر توبہ کی تو معاف نہیں کیے جاؤگے۔ چہارم یہ کہ جو لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے وہ مخالف ماحول کی انتہائی شدت اور اس کے مقابلہ میں اپنی بیچارگی دیکھ کر مایوس نہ ہوں اور انہیں معلوم ہو کہ ان حالات میں ان کو کس طرح کام کرنا چاہیے ۔ نیز وہ اس امر پر  بھی متنبہ ہو جائیں کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو اِس حالت سے نکال دے تو کہیں وہ اُس روش پر نہ چل پڑیں جو بنی اسرائیل نے مصر سےنجات پا کر اختیار کی۔آخر میں اعلان کیا گیا ہے کہ یہ عقیدہ اور یہ مسلک ہے جس پر چلنے کی اللہ نے اپنے پیغمبر کو ہدایت کی ہے۔ اس میں قطعًا کوئی ترمیم نہیں کی جا سکتی ، جو اسے قبول کرے گا وہ اپنا بھلا کرے گا اور جو اس کو چھوڑ کر غلط راہوں میں بھٹکے گا وہ اپنا ہی کچھ بگاڑ دے گا۔

Source: سید ابو اعلیٰ مودودیؒ - تفہیم القرآن